چین کا افریقہ کے 40 ممالک کو کرونا ویکسین دینے کا اعلان
چین نے کہا ہے کہ وہ تقریباً 40 افریقی ملکوں کو کووڈ-19 سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کر رہا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کا یہ اقدام خالصتاً فلاحی مقصد کے لیے ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار ووپنگ نے بیجنگ میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ویکسین کی یہ خوراکیں عطیے کے طور پر دی جائیں گی یا ان کی امدادی قیمت رکھی جائے گی۔
چین کی وزات خارجہ کے ڈائریکٹر ووپنگ کا کہنا تھا کہ کچھ ملکوں نے اس وقت تک دوسرے ملکوں کو ویکسین نہیں دی،جب تک انہوں نے اپنے عوام کو ویکسین لگانے کا کام مکمل نہیں کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ بلاشبہ ہمارے لیے بھی یہ یقینی بنانا ضروری تھا کہ ہم اپنے ملک کے عوام کو جتنی جلدی ممکن ہو ویکسین لگا دیں،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ضرورت مند ملکوں کو ویکسین فراہم کرنے کی اپنی بھرپورکوشش بھی کی ہے۔
وبا میں اقلیتوں کی مدد کرنے والی پاکستانی امریکی خاتون
امریکہ میں غیر قانونی تارکینِ وطن اور پسماندہ اقلیتی کمیونٹیز کرونا وائرس کی ویکسین لگوانے میں اب بھی پیچھے ہیں۔ صبا شاہ خان ملاقات کرا رہی ہیں ایک پاکستانی امریکی خاتون نائلہ عالم سے، جو ورجینیا اور واشنگٹن ڈی سی کے قریبی علاقوں میں آباد اقلیتی افراد کو ویکسین لگوانے میں مدد کر رہی ہیں۔
ویکسین لگوانے پر قرعہ اندازی میں گائے جیتنے کا موقع
دنیا بھر میں کرونا وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے ویکسی نیشن مہم کو تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور لوگوں کو ویکسین سے متعلق آگاہی اور انہیں امادہ کرنے کے لیے نئی نئی مہم بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ویکسین لگوانے والے کہیں شہریوں کو مفت میں ڈونٹ دیے جا رہے ہیں۔ کہیں ویکسین لگوانے پر چرس کے سگریٹ دیے جا رہے ہیں۔ تو کہیں لوگوں کے چہروں سے ویکسین لگوانے کا خوف ختم کرنے کے لیے ویکسین کی طرح دکھنے والے کیک فروخت کیے جا رہے ہیں۔
لیکن اب شمالی تھائی لینڈ کے ایک ضلع میں کرونا ویکسی نیشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ویکسین لگوانے والے افراد کو مفت میں گائے جیتنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان: پابندیوں میں کمی مگر کرونا کیسز میں پھر اضافہ
پاکستان میں عید پر کرونا لاک ڈاؤن کے بعد 24 مئی سے بہت سی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیکن کئی روز تک یومیہ کیسز کی تعداد کم رہنے کے بعد ایک مرتبہ پھر بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ ماضی سے کتنا مختلف ثابت ہوگا؟ جانیے پنجاب کرونا ایڈوائزری گروپ کی رکن ڈاکٹر صومیہ اقتدار سے۔