رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:31 27.5.2021

پاکستان میں کرونا کیسز کی مثبت شرح پانچ فی صد سے کم

پاکستان میں کرونا کیسز میں کچھ حد تک کمی آ رہی ہے۔ ملک میں جمعرات کو دو ہزار 726 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 62 ہزار 706 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جس میں مثبت کیسز کی شرح 4 اعشاریہ 34 فی صد رہی۔

ملک میں عالمی وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں 75 کا اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی اموات 20 ہزار 540 تک پہنچ گئیں۔

پاکستان میں وائرس سے اب تک مجموعی طور پر نو لاکھ 11 ہزار 302 افراد متاثر ہوئے ہیں جس میں چار ہزار 109 نگہداشت کی حالت میں ہیں۔

14:46 28.5.2021

پاکستان: '30 یا اس سے زائد عمر کے افراد کسی بھی ویکسین سینٹر پر ٹیکہ لگوا سکتے ہیں'

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تشکیل دی گئی ٹاسک فورس 'نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر' کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں 30 سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسی نیشن سینٹر پہنچنے پر ویکسین لگانے کی منظوری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسد عمر نے اپنے ایک ٹوئٹ میں مزید بتایا کہ ہفتے سے 30 سال سے زائد عمر کے افراد ویکسین سینٹر جا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

اسد عمر نے اپیل کی ہے کہ اگر آپ 30 یا اس سے زائد عمر کے ہیں تو کسی بھی ویکسین سینٹر پر جا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں شہریوں کو عمر کے حساب سے مرحلہ وار ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے جس کے لیے شہریوں کو شناختی کارڈ نمبر 116 پر بھیج کر رجسٹریشن کرانا ہوتی ہے۔ بعدازاں رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے کا جوابی پیغام موصول ہوتا ہے۔

ویکسین لگانے کے پہلے مرحلے میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کو دو فروری سے ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوا تھا جس کے بعد دوسرے مرحلے میں 60 سال سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کو ویکسین لگائی گئی۔ تیسرے، چوتھے اور پانچویں مرحلے میں 50، 40 اور بتدریج 30 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد کی ویکسی نیشن کا عمل شروع کیا ہوا ہے۔

15:15 28.5.2021

بائیڈن کا انٹیلی جنس اداروں کو کرونا وائرس کے آغاز کی مزید تحقیقات کرنے کا حکم

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے انٹیلی جنس اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرونا وائرس کے ماخذ کے بارے میں چھان بین کی کوششیں تیز کریں اور اس ضمن میں 90 روز کے اندر تحقیقاتی رپورٹ پیش کریں۔

صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ کووڈ 19 وبا کی ابتدا کے اصل حقائق جاننے کی ضرورت ہے، خصوصی طور پر اس امکان سے متعلق حتمی رائے سامنے آنی چاہیے کہ آیا کرونا وائرس کی شروعات حادثاتی طور پر چینی لیبارٹری سے ہوئی؟

صدر بائیڈن نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں امریکی قومی لیبارٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اس تحقیقات میں انٹیلی جنس اداروں کی مدد کریں اور چین سے مطالبہ کیا کہ اس چھان بین اور اسباب کے تعین میں امریکی حکام کے ساتھ تعاون کیا جائے۔

بائیڈن انتظامیہ کئی ماہ سے اس امکان کو رد کرتی آئی ہے کہ کرونا وائرس کا آغاز چین کی لیبارٹری سے ہوا تھا۔ لیکن وبا کے پھیلاؤ کے اسباب جاننے کے لیے حال ہی میں امریکہ اور کئی ممالک کی جانب سے بیانات اور مطالبات سامنے آئے ہیں۔

امریکی اخبار 'دی وال اسٹریٹ جرنل' نے اتوار کو امریکی انٹیلی جنس کی خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ چین میں وبا کے پھیلاؤ سے قبل ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے تین محققین نومبر 2019 میں بیمار ہوئے تھے۔

مزید جانیے

15:17 28.5.2021

بھارت میں کرونا سے اموات اور طریقۂ علاج پر بیان، بابا رام دیو اور ڈاکٹروں میں نیا تنازع

بھارت کے ڈاکٹروں اور یوگا گرو بابا رام دیو کے درمیان علاج کے طریقۂ کار پر تنازع ہو گیا ہے۔ بابا رام دیو کے بعض بیانات کی وجہ سے ڈاکٹروں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ان کے خلاف ملک سے غداری کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب بابا رام دیو نے کہا ہے کہ کسی میں ہمت نہیں ہے جو ان کو گرفتار کر سکے۔

کاروباری شخصیت اور یوگا گرو سے ڈاکٹروں کا یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بابا رام دیو نے گزشتہ ہفتے اپنے معتقدین سے گفتگو میں ایلوپیتھی طریقۂ علاج کا مذاق اڑایا تھا اور کہا تھا کہ ایلوپیتھی بیوقوفی والی اور دیوالیہ سائنس ہے۔

ان کے بقول کرونا کے علاج میں پہلے کلوروکوئن ناکام ہوئی۔ پھر ریمڈی سیور ناکام ہوئی۔ پھر اینٹی بائیو ٹیک اور اسٹیرائیڈ ناکام ہوئیں اور اب پلازمہ تھراپی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 10 ہزار ڈاکٹر ویکسین لینے کے باوجود ہلاک ہو چکے ہیں۔ دواؤں اور آکسیجن کی قلت سے اتنے لوگ نہیں مرے ہیں جتنے کہ ایلوپیتھی طریقۂ علاج سے مرے ہیں۔

بھارت میں ڈاکٹروں کی تنظیم ’انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن‘ (آئی ایم اے) نے وزیرِ اعظم کے نام اپنے مکتوب میں کہا کہ بابا رام دیو نے 10 ہزار ڈاکٹروں کی موت کی بات کی ہے۔ ان کا یہ بیان کرونا وبا پر قابو پانے کے قومی مفادات کے خلاف ہے۔

مکتوب کے مطابق آئی ایم اے کے خیال میں یہ ملک سے غداری کا واضح کیس ہے۔ اس کے علاوہ یہ قومی مفادات اور ملک کے غریب عوام کو نقصان پہنچانے والا معاملہ ہے۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG