رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

12:34 9.6.2021

امریکہ کا جاپان سمیت 110 ممالک اور علاقوں کے لیے سفری سفارشات میں نرمی کا اعلان

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ میں بیماریوں پر قابو پانے اور ان کی روک تھام کے نگراں ادارے (سی ڈی سی) نے ٹوکیو اولمپکس کے انعقاد سے قبل ہی جاپان سمیت 110 سے زائد ممالک اور علاقوں کے لیے سفری سفارشات میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سی ڈی سی نے منگل کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ ان ممالک میں وہ 61 ممالک شامل ہیں جن کے بارے میں اس سے قبل بیماری کے شدید خدشات پر مبنی انتباہ اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

سی ڈی سی نے تنبیہ کی تھی کہ جن افراد کو ویکسین کی دونوں خوراکیں لگ چکی ہیں وہ بھی شدید متاثرہ ملکوں کے سفر سے اجتناب برتیں۔ اب تک ان ملکوں کو چوتھی کیٹیگری یعنی انتہائی خطرناک ملک کے درجے میں رکھا گیا تھا۔

سی ڈی سی کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ مزید 50 ملکوں اور علاقوں کو خطرے کے 'دوسرے' یا 'پہلے' درجے پر رکھا گیا ہے، جو خطرے کی کم سطح کو ظاہر کرتی ہے۔

جن ممالک کو کووڈ-19 کے خدشات کے کم ترین درجے پر رکھا گیا ہے ان میں سنگاپور، اسرائیل، جنوبی کوریا، آئس لینڈ، بیلیز اور البانیہ شامل ہیں۔

نئی فہرست میں جن ملکوں کو اب خطرے کی 'تیسری' سطح پر رکھا گیا ہے ان میں فرانس، ایکواڈور، فلپائن، جنوبی افریقہ، کینیڈا، میکسکو، روس، اسپین، سوئٹزرلینڈ، ترکی، یوکرین، ہنگری اور اٹلی شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

10:39 10.6.2021

عالمی رہنما جو کرونا وبا کی حقیقت سے انکاری رہے

برازیل کے صدر جائر بولسونارو کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے عالمی وبا کے آغاز سے ہی اس کی شدت کو کم کر کے بیان کیا اور پھر خود بھی اس کا شکار ہوئے۔ نیلوفر مغل بتا رہی ہیں کہ دنیا بھر میں کون سے عالمی رہنماؤں نے کرونا وبا کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا اور ان کی اس سوچ کا عوام پر کیا اثر پڑا؟

عالمی رہنما جو کرونا وبا کی حقیقت سے انکاری رہے
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:54 0:00

10:43 10.6.2021

امریکہ: کرونا ویکسین عام ہونے کے بعد شادیوں کی تقریبات میں اضافہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ میں کرونا سے بچاؤ کی ویکسین عام دستیاب ہونے اور گرمی کا موسم شروع ہونے کے بعد نئے جوڑے شادیاں کرنے کے لیے بے تاب نظر آرہے ہیں۔

شادیوں کی تقریبات کو یادگار بنانے والے ویڈنگ پلانرز یعنی شادیوں کی تقریبات کی منصوبہ بندی کرنے کے کاروبار دوبارہ چمک اٹھے ہیں اور تاریخوں کی کمی کی وجہ سے اب نئی بکنگز 2022 کے اواخر اور 2023 کی تاریخوں میں کی جارہی ہیں۔

'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی ایک رپورٹ کے مطابق کووڈ کیسز میں کمی اور بڑی تقریبات پر پابندیوں میں نرمی کے ساتھ امریکہ میں شادی کے خواہش مند افراد بڑی تعداد میں شادی کے ہالز یا پنڈال، شادیوں کے پلانرز، عروسی ملبوسات کے ڈیزائنرز اور کیٹرنگ کمپنیوں کا رخ کر رہے ہیں۔

ان میں ایسے جوڑے بھی شامل ہیں جو پابندیوں کے دوران سادہ تقاریب میں رشتہ ازدواج میں تو منسلک ہوچکے تھے مگر اب باقاعدہ ایک بڑی تقریب کا اہتمام کر کے دوستوں اور رشتے داروں کو بھی اپنی خوشی میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیے

10:47 10.6.2021

پاکستان: کرونا کیسز میں کمی کا سلسلہ جاری

پاکستان میں یومیہ کیسز میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے اور ایک روز کے دوران کیسز کی تعداد گھٹ کر ڈیڑھ ہزار سے بھی کم ہو گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 1303 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ وبا کے شکار مزید 76 مریض چل بسے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 41 ہزار 824 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے اور مثبت کیسز کی شرح تین اعشاریہ ایک فی صد رہی۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG