امریکہ میں اموات چھ لاکھ سے متجاوز
امریکہ میں کرونا وائرس کے سبب ہونے والی اموات کی تعداد چھ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں منگل کو وبا سے مزید 335 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد کرونا سے اب تک ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد چھ لاکھ 272 ہو گئی ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک تین کروڑ 34 لاکھ 85 ہزار 123 افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے کرونا وائرس کے یومیہ کیسز اور اموات میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
امریکہ میں صحت عامہ کے نگراں ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (سی ڈ سی) کے مطابق ملک میں اب تک 17 کروڑ 46 لاکھ 74 ہزار 144 افراد کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک فراہم کی جا چکی ہے جب کہ 14 کروڑ 57 لاکھ 68 ہزار 367 افراد کی ویکسی نیشن مکمل ہو چکی ہے۔
ووہان میں وبا پھیلنے کے وقت امریکہ میں کووڈ-19 کی موجودگی کا انکشاف
ایک نئی اور تفصیلی سائنسی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ سال 2019 میں کرسمس سے قبل امریکہ میں کرونا وائرس نمودار ہو چکا تھا۔ یہ لگ بھگ وہی وقت ہے جب چین کے شہر ووہان میں پہلی بار اس مہلک وبا کے مریض سامنے آئے تھے۔
امریکہ میں صحت کے حکام نے باضابطہ طور پر کرونا وائرس کے پہلے مریض کی شناخت جنوری 2020 میں کی تھی۔ یہ شخص 15 جنوری کو ووہان سے امریکی ریاست واشنگٹن پہنچا تھا اور بیماری کی علامتیں ظاہر ہونے پر 19 جنوری کو ڈاکٹر کے پاس گیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس پر تحقیق کے لیے 2020 کے شروع میں 24 ہزار کے لگ بھگ امریکیوں کے خون کے نمونے لیے گئے تھے جن کے تجزیے سے یہ پتا چلا تھا کہ دسمبر 2019 میں یہ وائرس امریکہ میں موجود تھا۔
اگرچہ یہ تجزیاتی رپورٹ حتمی نہیں اور کئی ماہرین کو اس پر شکوک و شبہات بھی ہیں لیکن صحت کے وفاقی عہدے داروں میں اس بارے میں اتفاق رائے بڑھ رہا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکہ میں اس وقت کرونا وائرس کے محدود تعداد میں مریض موجود ہوسکتے ہیں جب دنیا کو ووہان میں اس مہلک وبا کے پھوٹنے کا علم نہیں ہوا تھا۔
کرونا وبا کے دوران عمر رسیدہ لوگوں کےخلاف زیادتیوں میں اضافہ
عمر رسیدہ افراد کو کوویڈ نائنٹین کی عالمی وبا کے دوران تشدد، بدسلوکی اور نظرانداز کرنے جیسے ناروا رویوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے۔
اقوام متحدہ نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کو ہیلتھ سینٹرز، ہوم کیئر سنٹرز اور حتّیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی امتیازی سلوک کا سامنا رہا۔
بزرگوں کے خلاف بد سلوکی سے آگاہی کے عالمی دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کی آزادانہ طور پر خدمات انجام دینے والی ماہر برائے انسانی حقوق کلاڈیا ماہلر نے کہا کہ انہیں دنیا کے مختلف حصوں سے پریشان کن رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ کس طرح عمر رسیدہ شہریوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی اور ان کے سماجی اور قانونی حقوق کو نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے بزرگ شہریوں کو تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔
کرونا ویکسین کی زائد خوراک جسمانی اعضا کی پیوندکاری کے حامل افراد کے لئے مفید: تحقیق
کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی مقررہ مقدار سے زائد خوراک ان مریضوں کی کرونا وائرس سے حفاظت میں معاون ثابت ہوتی ہے جن کے جسمانی اعضا کی پیوند کاری یعنی ٹرانسپلانٹ ہو چکا ہو۔ یہ بات ایک مختصر طبی تحقیق سے سامنے آئی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جہاں بہت سے لوگ ویکسین لگوانے کے بعد روزمرہ زندگی کے معمولات کی طرف لوٹ رہے ہیں، وہاں ایسے افراد جو جسمانی اعضا کے ٹرانسپلانٹ ہونے، کینسر یا دوسری وجوہات سے قوت مدافعت کو کم کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ ویکسین لگنے کے بعد بھی وہ کتنے محفوظ رہیں گے۔ کیوں کہ کسی بھی ویکسین کے لیے کمزور قوت مدافعت کو بروئے کار لانا مشکل ہو گا۔
پیر کے روز سامنے آنے والی اس تحقیق میں ٹرانسپلانٹ کے صرف 30 مریضوں کو شریک کیا گیا تھا۔ لیکن یہ مستقبل میں مزید تحقیق کے لیے اچھا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔