پاکستان: کرونا سے مزید 930 افراد متاثر
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے 45 ہزار 519 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 930 افراد کے نتائج مثبت آئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا سے مزید 39 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 22 ہزار 73 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 338 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔
بھارت میں مثبت کیسز کی شرح دو اعشاریہ چھ سات فی صد
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید 50 ہزار 848 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح دو اعشاریہ چھ سات فی صد ریکارڈ کی گئی ہے۔
ملک میں کرونا سے مزید ایک ہزار 358 اموات ہوئی ہیں جب کہ 24 گھنٹوں کے دوران 68 ہزار 817 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس کی سب سے پہلے تشخیص اکتوبر 2019 میں ہوئی تھی: تحقیق
برطانیہ کی کینٹ یونی ورسٹی کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چین کے شہر ووہان سے پھوٹنے والی وبا کا پہلا کیس درحقیقت دو ماہ پہلے اکتوبر 2019 میں سامنے آیا تھا۔
طبی جریدے ‘پلوس پیتھوجنز’ کے مطابق تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سارس-کو وی-2 سب سے پہلے سال 2019 اکتوبر کے اوائل سے نومبر کے درمیان سامنے آیا تھا۔
تحقیق میں لگائے گئے اندازوں کے مطابق کرونا وائرس ممکنہ طور پر جنوری 2020 تک دنیا میں پھیل چکا تھا۔
خیال رہے کہ چین کے شہر ووہان سے پہلا کیس دسمبر 2019 سے رپورٹ ہوا تھا جس کی تشخیص ووہان شہر کی حنان سی فوڈ مارکیٹ سے ہوئی تھی۔
دو امریکی ویکسینز نوجوانوں میں دل کے انفیکشن کا سبب بن سکتی ہیں، سی ڈی سی
امریکہ میں وبائی امراض کے کنٹرول کے ادارے (سی ڈی سی) نے بدھ کے روز کہا ہے کہ دو کرونا ویکسینز یعنی فائزر اور موڈرنا کا لڑکوں اور نوجوان مردوں میں دل کے ایک مرض کے ساتھ تعلق ہو سکتا ہے۔ تاہم واقعات کی تعداد بہت کم ہے۔
وفاقی ادارے نے بتایا کہ 1200 سے زائد نوجوانوں میں، جنہوں نے یہ دونوں ویکسینز لگوائی تھیں، مائیو کارڈائٹس یعنی دل کے پٹھوں میں سوزش کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
ادارے کے مطابق یہ شکایت عورتوں کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ اور عموماً ویکسین کی دوسری خوراک کے بعد سامنے آئی ہے۔
سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ اس بیماری میں ہلکی کمزوری اور سینے میں درد دیکھنے میں آ تا ہے اور اکثر افراد اس بیماری سے مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔
ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ ان دو ویکسینز اور مائیو کارڈائٹس میں تعلق دیکھنے میں آیا ہے لیکن ان ویکسینز کے فوائد ان کے مضر اثرات سے کہیں زیادہ ہیں۔