اگر ویکسینز اینٹی باڈیز نہیں بناتیں تو کرونا سے محفوظ کیسے رکھتی ہیں؟
پاکستان میں ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے والے شہری اس تجسس میں مبتلا ہیں کہ آیا ویکسین لگوانے کے نتیجے میں ان کے جسم کے اندر مطلوبہ اینٹی باڈیز بنی ہیں یا نہیں۔ جن سے بظاہر کرونا وبا سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
اس ذہنی کشمکش کو حل کرنے کے لیے یہ ویکسین شدہ افراد لیبارٹریز سے اینٹی باڈیز ٹیسٹ کرا رہے ہیں اور ان رپورٹس میں تشخیص کی جانے والی اینٹی باڈیز کے ذریعے لگنے والی ویکسین کی افادیت کا تعین کر رہے ہیں۔
تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کسی شخص میں کرونا ویکسین لگوانے کے بعد اینٹی باڈیز نہیں بنیں تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ویکسین نے جسم میں داخل ہو کر قوت مدافعت کو وبا کے خلاف تقویت فراہم نہیں کی۔
ڈبلیو ایچ او کی امیر ممالک کو ویکسین کی تیسری خوراک سے متعلق تجویز
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پیر کو کہا ہے کہ امیر ممالک اپنی آبادی کے لیے ویکسین کی تیسری خوراک (بوسٹر شاٹ) خریدنے پر زور نہ دیں کیوں کہ ابھی تک بہت سے ممالک میں کرونا کی ویکسین ہی میسر نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہنم گیبریاسس نے بریفنگ کے دوران کہا کہ کرونا وبا کے سبب اموات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ڈیلٹا ویرینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس وقت بہت سے ممالک کو اپنے ہیلتھ ورکرز کو محفوظ رکھنے کے لیے ویکسین کی معقول خوراکیں موصول نہیں ہوئی ہیں۔
ان کے بقول عالمی سطح پر کرونا ویکسین کی فراہمی کے عمل میں واضح عدم مساوات ہے۔
انہوں نے دوا ساز کمپنی فائزر اور موڈرنا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمپنیاں ایسے ممالک جہاں پہلے ہی زیادہ آبادی کی ویکسی نیشن مکمل ہو چکی ہے، انہیں ویکسین کے بوسٹر شاٹس فراہم کرنے پر بات کر رہی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کو بوسٹر خوراک کے بجائے غریب ممالک کو ویکسین کی خوراکیں فراہم کرنی چاہئیں۔
ترکی: کرونا بحران میں موسیقار اور گلوکار بے روزگار
ترکی میں کرونا وبا کے باعث ایک سال سے زیادہ عرصے کے دوران بار بار لاک ڈاؤن لگتا رہا ہے۔ اس عرصے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں ملک کے موسیقار بھی شامل ہیں جو یا تو بے روزگار ہو گئے ہیں یا پیسے کمانے کے لیے سڑکوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مزید جانتے ہیں عمران جدون کی اس رپورٹ میں۔
پاکستان: مثبت کیسز کی شرح چار فی صد سے زائد
پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک میں مزید ایک ہزار 980 افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے سرگرم ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق ملک میں مثبت کیسز کی شرح چار اعشاریہ ایک سات فی صد ریکارڈ کی گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 میں کرونا سے 24 افراد انتقال کرگئے۔
این سی او سی کے مطابق پاکستان میں 13 جولائی کو ویکسین کی پانچ لاکھ 36 ہزار 289 خوراکیں بھی فراہم کی گئیں ہیں۔