کیا مویشی منڈیوں میں کرونا احتیاطی تدابیر پر عمل ہو رہا ہے؟
پاکستان کے مختلف شہروں میں عید الاضحٰی سے قبل مویشیوں کی خرید و فروخت کے لیے عارضی منڈیاں قائم کی گئی ہیں۔ شہریوں کو کرونا کی احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ ان منڈیوں میں قواعد و ضوابط کی کس حد تک پابندی کی جا رہی ہے؟ جانتے ہیں ضیا الرحمٰن اور گیتی آرا انیس سے۔
کیا پاکستان میں صحت کا نظام کرونا کے ڈیلٹا ویرینٹ سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
پاکستان میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر کے اثرات کے ساتھ ہی وبا کی قسم ’ڈیلٹا‘ کے کیسز کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
کراچی کے بعد ملک کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں بھی ڈیلٹا ویرینٹ کے کئی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
صورتِ حال پر نظر رکھنے والے قومی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی ) کے مطابق ملک میں رواں ماہ جون کے بعد ایک بار پھر جہاں کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے وہیں ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ملک میں 45 لاکھ افراد مکمل طور پر اور ایک لاکھ 81 ہزار سے زائد افراد کو جزوی طور پر ویکسین لگائی جا چکی ہے۔
این سی او سی کے سربراہ اور وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ این سی او سی کے ڈیٹا کے مطابق وہ افراد جنہوں نے اب تک ویکسین نہیں لگائی، وہ ویکسین لگانے والوں کے مقابلے میں سات گنا زیادہ رسک پر ہیں۔
کرونا وائرس کے بارے میں غلط معلومات کو پھیلنے سے روکا جائے: امریکی سرجن جنرل
امریکہ کے سرجن جنرل ویوک مورتھی کی جانب سے جمعرات کو صحت عامہ کے لئے جاری کی گئی ایک ایڈوائزری میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کووڈ- 19 کی ویکسین کے بارے میں غلط معلومات پر کنٹرول میں مدد کریں، جو ان کے بقول، امریکی ویکسی نیشن پروگرام کی سست روی کا باعث بن رہی ہیں۔
امریکہ میں حکومت کی مہم کے باوجود کئی ریاستوں میں کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کا عمل سست روی کا شکار ہے اور وہاں ویکسین لگوانے کی شرح 50 فی صد سے بھی کم ہے۔
کرونا کے تیزی سے پھیلنے والے مہلک ویرینٹ ڈیلٹا کے پھیلاؤ میں اضافے نے حکام کو متفکر کر دیا ہے۔ ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز ان ریاستوں میں زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں جہاں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد کم ہے۔
مورتھی نے اس سال کے شروع میں اپنا منصب سنبھالنے کے بعد سے پہلی ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں انہوں نے صحت کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کو صحت عامہ کے لئے ایسا سنگین خطرہ قرار دیا ہے جس کے نتیجے میں ابہام اور بے اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے، لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور لوگوں کی صحت کو قائم رکھنے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
بھارت: طویل عرصے سے گھروں تک محدود افراد کا سیاحتی مقامات کا رخ
بھارت میں کرونا وبا کے باعث ایک طویل عرصے تک گھروں میں محدود شہری بڑی تعداد میں شمالی بھارت کے سب سے مشہور تفریحی مقام شملہ کا رخ کر رہے ہیں۔
بھارت میں وائس آف امریکہ کی نامہ نگار انجنا پسریچہ کی رپورٹ کے مطابق، شملہ کے ہل سٹیشن کے مناظر کچھ ایسے ہیں کہ جیسے کرونا وبا کا خطرہ مکمل طور پر ٹل چکا ہو۔ کہیں لوگ گھڑ سواری کرتے نظر آرہے ہیں، تو کچھ ہمالیہ کی فلک بوس چوٹیوں کے نظاروں سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ سیاحوں کے رش کی وجہ سے اس خوبصورت ہل اسٹیشن کے کیفے اور ریستوران بھی اب مستقل مصروف ہیں۔
اپریل اور مئی کے مہینوں میں بھارت کرونا وبا کی شدید لپیٹ میں تھا۔ اب جبکہ صورتحال میں بہتری آئی ہے لوگ سیر و تفریح کے لئے باہر نکل آئے ہیں اور ماہرین اسے 'ریوینج ٹریول' یا الجھن دور کرنے والی سیر و تفریح قرار دے رہے ہیں۔ یوں، جیسے ایک سال تک ذہنی تناؤ، لاک ڈاونز اور تنہا رہنے کے بعد وبا کو شکست دینے پر فتح کا اعلان کیا جا رہا ہو۔