کرونا صورتِ حال بہتر نہ ہوئی تو مزید اقدامات کریں گے: وزیرِ اعلیٰ سندھ
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت کرونا وائرس پر تشکیل دی گئی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس کے دوران صوبے میں وبا کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس اور کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ شہرِ کراچی میں شام چھ بجے کے کاروباری سرگرمیوں پر پابندی کی ہدایت پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے یہ بھی ہدایت کی کہ شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور انہوں نے ٹیوشن سینٹرز کو بھی فوری بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مراد علی شاہ جمعے کو کرونا کی صورتِ حال کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔ اگر صورتِ حالت بہتر نہ ہوئی تو اس حوالے سے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
مریم نواز کا کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آ گیا
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آ گیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے مریم نواز کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی ہے۔
اپنی ٹوئٹ میں مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد مریم نواز نے خود کو گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔
کرونا لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد مہاجرین کی غیرقانونی طور پر یورپ آمد میں اضافہ
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کئی ماہ تک جاری رہنے والی بندشوں کے بعد دی جانے والی نرمی کے دوران بڑی تعداد مین تارکین وطن یورپی ممالک کا رخ کر رہے ہیں، جہاں حکومتوں نے ابھی مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد سے نمٹنے کے لیے کوئی مربوط پالیسی وضع نہیں کی۔
اس ہفتے مہاجرین کے یورپ کے براعظم کی طرف رخ کرنےاور یورپی حکومتوں کی پالیسی کے مسائل اس وقت نمایاں ہوئے جب اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت 'آئی او ایم' نے تصدیق کی کہ لیبیا کی دارالحکومت طرابلس سے 120 کلومیٹر مشرق میں مہاجرین سے بھری ایک کشتی کے ڈوب جانے کے نتیجے میں 57 مہاجرین ہلاک ہو گئے۔
آئی او ایم کے لیبیا مشن کے سربراہ نے مہاجرین کو درپیش آنے والے اس المیہ پر ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اس معاملے پر "خاموشی اختیار کرنا اور کوئی اقدام نہ اٹھانا ناقابل معافی ہوگا۔"
زندہ بچ جانے والے افراد نے بتایا کہ ڈوبنے والےمہاجرین میں 20 خواتین اور دو بچے بھی شامل تھے۔
کرونا وبا کے دور میں آن لائن ہوم اسکولنگ کتنی مؤثر، امریکہ میں پاکستانی نژاد والدین کیا سوچتے ہیں؟
گزشتہ برس کرونا وبا کے پھیلنے پر امریکہ میں اسکول بند کرنے کے بعد آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ یہ طریقہ کچھ والدین کو ایسا بھا گیا ہے کہ اب وہ اپنے بچوں کو گھر پر ہی تعلیم دینے کی خواہش رکھتے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کچھ امریکی والدین کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کی خصوصی تعلیم کی ضروریات ہیں، کچھ کا کہنا تھا وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کے تعلیمی نصاب میں دینیات بھی شامل ہو جب کہ کئی نے مقامی تعلیمی نصاب پر اپنے شبہات کا اظہار کرتے ہوئے ہوم اسکولنگ کے حق میں دلائل دیے۔
والدین کی مخصوص ترجیحات بلاشبہ الگ ہوں گی، لیکن ان میں یہ ایک بات مشترک ہے کہ ان سب نے کرونا وبا کے زمانے میں مجبوراً اپنے بچوں کو ہوم اسکولنگ کرائی اور پھر انہیں احساس ہوا کہ ایسا کرنا ممکن ہے، اورایک وقت گزرنے کے ساتھ پر انہیں یہ سلسلہ بھلا محسوس ہونے لگا.
امریکی مردم شماری کے ادارے نے بھی ہوم اسکولنگ میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2021ء میں ملک میں بچوں کی ہوم اسکولنگ کرانے والے گھرانوں کی تعداد دوگنی ہو کر 11 فیصد ہو گئی۔ صرف چھ ماہ پہلے ستمبر 2020ء میں یہ تعداد پانچ اعشاریہ چار فیصد تھی۔