’سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن نہیں، مخصوص شعبہ جات بند کیے جائیں گے‘
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں ہے۔ مخصوص شعبہ جات کو بند کیا جائے گا۔
صوبے میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ کرونا کی یہ قسم ڈیلٹا دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں ہونے والے کرونا ٹیسٹس کے حوالے سے کہا کہ تمام کیسز ڈیلٹا ویریئنٹ کے سامنے آ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کھلے مقامات کے مقابلے میں بند مقامات پر زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔
انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ کرونا وبا اگر تیزی سے پھیلی تو اسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہومیہ دو ہزار کے قریب کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے لاک ڈاؤن کامیاب بنانے کی بھی اپیل کی۔
صوبے میں 31 جولائی سے آٹھ اگست تک لاک ڈاؤن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ نو دن لاک ڈاؤن پر عمل کیا گیا تو حکومت پابندیاں اٹھانے کی طرف جائے گی۔
انہوں نے لاک ڈاؤن کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مقصد کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی چین توڑنے کا ہے تاکہ اسپتالوں کو مریضوں اضافے کے حوالے سے راحت مل سکے۔
انہوں نے ویکسی نیشن کے حوالے سے بتایا کہ کرونا سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ویکسین لگوانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویکسی نیشن کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے لوگوں کے چھوٹی گاڑیاں چلانے کیا اجازت ہوگی البتہ پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ کا اجلاس آئندہ ہفتے ہونا تھا البتہ اس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح گورنر سے بات کی ہے تاکہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس بھی آن لائن کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں صحت، کھانے پینے کی اشیا، بیکریاں، گوشت کی دکانیں، درآمدات اور برآمدات، بینک، بندرگاہ، اسٹاک ایکسچینج وغیرہ کم اسٹاف کے ساتھ کھلے رہنے کی درخواست کی جائے گی۔ جب کہ پیٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔ طلبہ کے امتحانات ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صوبائی حکومت کے فیصلوں کے حوالے سے این سی او سی کے سربراہ اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ علما نے ان کو تجویز دی ہے کہ ویکسی نیشن سینٹر مساجد اور امام بارگاہوں میں بنانے کی تجویز دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے لیے زیادہ توجہ کراچی پر ہو گی۔
آسٹریلیا: پولیس کے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج روکنے کے اقدامات
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں کرونا کیسز میں اضافہ جاری ہے اور پولیس نے ہفتے کو لاک ڈاؤن کے خلاف مرکزی شہر میں ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے علاقے کو بند کر دیا۔
شہر میں نافذ کردہ لاک ڈاؤن جو کم از کم اگلے ماہ اگست کے آخر تک جاری رہ سکتا ہے، اس کے خلاف گزشتہ ہفتے کے آخر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اس ہفتے کو بھی احتجاج کی کال دی گئی تھی۔
تاہم پولیس کی طرف سے ٹرین اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں اور ٹیکسیوں کو ان علاقوں میں مسافر چھوڑنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک ہزار پولیس اہل کار بھی تعینات کیے گئے۔
سڈنی میں ہفتے کو مقامی منتقلی کے 210 کیسز رپورٹ کیے گئے۔
خیال رہے کہ سڈنی کرونا وائرس کی مہلک قسم ڈیلٹا ویرینٹ کی زد میں ہے اور اب تک رپورٹ کیے گئے کرونا کیسز کی تعداد 3190 تک پہنچ گئی ہے۔
چین کے دو علاقوں میں ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز میں اضافہ
چین کے دو علاقے کرونا وائرس کی مہلک قسم ڈیلٹا ویرینٹ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔
ہفتے کو صوبہ فوجیان اور میگا سٹی چونگ کنگ میں ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز رپورٹ کیے گئے۔
چین کے شہر نن جنگ میں ڈیلٹا ویرینٹ کے 200 سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔ جہاں ایئر پورٹ پر صفائی کرنے والے نو افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔
چین، جہاں سے کرونا وائرس شروع ہوا تھا، میں ڈیلٹا ویرینٹ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ ایک بار پھر سے بڑے پیمانے پر کرونا ٹیسٹس کی مہم شروع کی جا رہی ہے۔
چار ہفتوں میں کروبا کیسز میں 80 فی صد اضافہ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران کرونا وائرس کے کیسز میں اوسطاََ 80 فی صد اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ ڈیلٹا ویرینٹ ہے۔
بھارت میں سب سے پہلے تشخیص کیے جانے والا ڈیلٹا ویرینٹ اب تک 132 ممالک اور علاقوں میں پھیل چکا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ایمر جنسی کے ڈائریکٹر مائیکل ریان کا صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ڈیلٹا وائرس ایک تنبیہ ہے کہ وائرس تبدیل ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس سے پہلے کے کرونا وائرس کے مزید ویرینٹس آئیں، ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔
مائیکل نے زور دیا کہ کرونا وائرس کے خلاف آزمائی گئی حکمتِ عملی ابھی بھی کار آمد ہے۔
ان کے بقول سماجی دوری اختیار کی جائے۔ فیس ماسک پہنے جائیں۔ ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھویا جائے اور ویکسین لگوائی جائے۔