رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:38 7.8.2021

آسٹریلیا میں رواں سال کے دوران ریکارڈ یومیہ کیسز اور اموات رپورٹ

آسٹریلیا میں ہفتے کو رواں سال کے دوران ریکارڈ یومیہ کیسز اور اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔ جب کہ تین ریاستوں نیو ساؤتھ ویلز، وکٹوریا اور کوئنز لینڈ میں ڈیلٹا ویریئنٹ کے 361 کیسز سامنے آئے ہیں۔

آسٹریلیا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے باعث پانچ اموات بھی ہوئی ہیں۔ جو کہ رواں سال کے دوران سب سے زیادہ یومیہ ہلاکتیں ہیں۔

لگ بھگ ایک کروڑ 50 لاکھ یا آسٹریلیا کی 60 فی صد آبادی والی ان تین ریاستوں میں سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں اب تک لگ بھگ تین لاکھ 60 ہزار کے قریب کرونا کیسز اور 937 اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔

آسٹریلیا میں ویکسین لگائے جانے کی شرح بہت کم ہے اور اب تک 16 سال سے زائد والے صرف 20 فی صد افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے۔

13:40 7.8.2021

خیبر پختونخوا میں ایک اور ڈاکٹر کی موت، وبا سے ہلاک ڈاکٹرز کی تعداد 69 ہو گئی

خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں قائم ایوب میڈیکل کمپلیکس میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیکل سروسز پتھالوجی ڈاکٹر احسان الحق کرونا وبا کے سبب انتقال کر گئے۔

ڈاکٹرز کی صوبائی تنظیم کے مطابق کرونا وبا سے اب تک 69 ڈاکٹرز ہلاک ہو چکے ہیں۔

علاوہ ازیں اس عالمی وبا سے اب تک 38 ہیلتھ ورکرز بھی انتقال کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر احسان الحق گزشتہ تین دن سے ایوب میڈیکل کمپلیکس کے کرونا وارڈ میں زیر علاج تھے۔

15:28 7.8.2021

بھوٹان نے کرونا وائرس کو شکست کیسے دی؟

بھوٹان میں کرونا وائرس کے تقریباً ڈھائی ہزار کیسز رپورٹ ہوئے البتہ اموات صرف دو ہوئیں۔ یہاں کی 90 فی صد بالغ آبادی کو ویکسین لگ چکی ہے۔ بھوٹان کی آبادی اگرچہ بہت کم ہے البتہ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ ملک محدود وسائل کے باوجود کرونا وائرس پر قابو پانے کے اعتبار سے بہت سے ممالک سے آگے ہے۔

بھوٹان نے کرونا وائرس کو شکست کیسے دی؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:02 0:00

17:28 7.8.2021

فرانس میں ہیلتھ کارڈ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری

فرانس میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ ہیلتھ کارڈ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ مسلسل چار ہفتوں سے جاری ہے اور ہفتے کو بھی اس سلسلے میں ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے۔

رواں ماہ نو اگست سے یہ ہیلتھ کارڈ دوسرے شہروں کو جانے والی ٹرانسپورٹ، ریستورانوں اور کیفیز کے لیے بھی لازمی قرار دے دیا جائے گا۔

ہیلتھ کارڈ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہیلتھ کارڈ کے حامل افراد ویکسین شدہ ہیں اور ان کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا ہے جس کے بعد ایسے مقامات پر وہ جا سکتے ہیں جہاں 50 سے زائد افراد کی گنجائش ہو۔

ناقدین کی طرف سے صدر ایمانوئل میخواں پر ‘ہیلتھ ڈکٹیٹر شپ’ لاگو کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ جو کہ لوگوں کو مرضی کے خلاف ویکسین لگوانے پر مجبور کرتی ہے۔

تاہم فرانسیسی حکومت بضد ہے کہ اس نے کرونا وبا کے خلاف جنگ میں ہیلتھ کارڈ کو ہر صورت استعمال کرنا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG