ہسپانوی نژاد پولیس سارجنٹ کا فیس بک پیج امریکیوں کو ویکسین لگوانے پر کیسے آمادہ کر رہا ہے؟
امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور کے نواح میں رہائش پذیر کارلوس کارنیجو ویسے تو ایک پولیس سارجنٹ ہیں۔ لیکن وہ ہسپانوی زبان میں جو فیس بک پیج چلاتے ہیں، اس کے فالوورز کی تعداد ساڑھے چھ لاکھ سے زائد ہے۔
ان کا پیج ریاست کولوراڈو کے حکام کی توجہ کا مرکزتب بنا جب وہ ریاست کے شہریوں کو ویکسین لگوانے پر مائل کرنے کے لئے مقامی 'انفلوئنسرز' یا سوشل میڈیا پر سرگرم ایسے افراد کو ڈھونڈ رہے تھے، جن کے سوشل میڈیا فالوورز یعنی پیروکاروں کی تعداد متاثر کن ہو۔
بتیس سالہ کارنیجو ان درجنوں افراد میں سے ایک ہیں جن کی خدمات ریاست کولوراڈو کے حکام نے خاص اس مقصد کے لئے حاصل کی ہیں، کہ وہ کرونا وائرس کے تشویشناک پھیلاو کو روکنے کے لئے مقامی سطح پر ویکسین کے بارے میں آگہی پھیلانے کی کوششوں میں حصہ لیں۔
سوشل میڈیا انفلوئینسرز کی اس فہرست میں فیشن بلاگرز سے لے کر پناہ گزینوں کے وکلا اور مذہبی رہنما تک کئی شخصیات شامل ہیں۔
کارنیجو کا فیس بک پیج کولوراڈو ریور ویلی میں لاطینی امریکی کمیونٹی کے لیے پولیس کے بارے میں معلومات عام کرنے کاایک قابل اعتماد ذریعہ بن چکا تھا لیکن اب ریاست کی حکومت نے ان کی خدمات کرونا ویکسین کے بارے میں معلومات عام کرنے کے لئے بھی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیے
دفتر اور گھر سے کام کرنے والے گوگل کے ملازمین کی تنخواہوں میں واضح فرق
کرونا وبا سے پہلے ایک ہی دفتر میں کام کرنے والے گوگل کے ملازمین اگر مستقل طور پر گھر سے کام کرنے کا انتخاب کریں تو ان کی تنخواہ میں فرق دیکھا جا سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے امریکی کمپنی گوگل کے ملازمین کی تنخواہ کے کیلکو لیٹر کا جائزہ لیا ہے۔
گوگل ملازمین کی تنخواہوں میں فرق کو سلیکون ویلی میں ایک تجربے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو اکثر بڑی کمپنیوں کی تنخواہوں کے تعین کے لیے بھی ایک رجحان طے کرتا ہے۔
فیس بک اور ٹوئٹر بھی کم مہنگے علاقوں میں منتقل ہو کر دفتر سے دور کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی کر چکا ہے جب کہ ریڈٹ اور زیلو جیسی نسبتاً چھوٹی کمپنیاں 'لوکیشن اگنوسٹک پے ماڈل' اپنا رہی ہیں، یعنی ملازمین جس مقام سے کام کر رہے ہوں گے اس علاقے میں آمدنیوں کے رجحان کو مدِ نظر رکھ کر ان کی تنخواہ کا تعین کیا جائے گا۔
اب تک یہ ماڈل بھرتیوں، ملازمتیں برقرار رکھنے اور تنوع میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
پاکستان میں ساڑھے چار ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 4856 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق منگل کو ملک بھر میں 64 ہزار 690 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے اور مثبت کیسز کی شرح سات اعشاریہ پانچ فی صد رہی۔
حکام کے مطابق کرونا وائرس کے شکار مزید 81 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 24 ہزار 85 ہو گئی ہے۔
جرمنی: مفت کرونا ٹیسٹ کی سہولت ختم کرنے کا اعلان
جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ 11 اکتوبر سے حکومت مفت کرونا ٹیسٹ کی سہولت فراہم نہیں کرے گی۔ البتہ یہ سہولت حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے دستیاب ہو گی۔
جرمن چانسلر نے بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ملک میں کرونا ویکسین نیشن کی شرح بتدریج کم ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روز مرہ کی زندگی کا حصہ بننے کے لیے شہریوں کو کرونا ویکسین لگوانا ہو گی اور وہ 11 اکتوبر تک مفت ٹیسٹ کی سہولت سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔
جرمن حکومت ان ڈور ریسٹورنٹ جانے، مذہبی تقریبات میں شرکت اور چھت تلے کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے شہریوں کے لیے ویکسین سرٹیفکٹ کو ضروری قرار دے رہی ہے۔