پاکستان میں مزید 9 لاکھ سے زائد افراد نے ویکسین لگوا لی
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نو لاکھ 61 ہزار 340 افراد کو کرونا وائرس کی ویکسین لگائی گئی ہے۔
این سی او سی کے مطابق پاکستان میں اب تک مجموعی طور پر سات کروڑ 95 لاکھ سے زیادہ افراد ویکسین لگوا چکے ہیں۔
حکام نے ویکسین نہ لگوانے والے شہریوں کو تنبیہ کی ہےکہ انہیں یکم سے 21 اکتوبر کے درمیان سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ویکسین نہ لگوانے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ویکسین لگوا لیں۔
پاکستان: کرونا کے مزید 1400 کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 1400 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ روز 44 ہزار 116 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مثبت کیسز کی شرح تین اعشاریہ ایک سات فی صد رہی۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 41 مریض دم توڑ گئے ہیں اور 4015 مریضوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
کرونا سے بچاؤ کے لیے اینٹی وائرل دوا کے کلینیکل ٹرائلز
دوا ساز کمپنیوں مرک اور فائزر نے کرونا سے تحفظ کے لیے اینٹی وائرل ٹیبلیٹس کے کلینکل ٹرائلز کے نتائج جلد سامنے لانے کا اعلان کیا ہے جب کہ دنیا کے مختلف ممالک میں دوا ساز کمپنیاں بھی ویکسین کے علاوہ کرونا کے علاج کے لیے دوا کی تیاری میں مصروفِ عمل ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق دوا ساز کمنیوں اینانتا، پردیس بائیو سائنسز، جاپان کی شنوگی اور نوارٹس کا دعویٰ ہے کہ وہ بھی کرونا سے بچاؤ کے لیے ٹیبلٹ تیار کر رہے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا ایسی بیماری ہے جس سے اب انسانوں کو واسطہ رہے گا، لہذٰا ویکسین کے علاوہ بھی اس کے علاج کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرنا ہوں گے۔
مرک اور فائزر نے عندیہ دیا ہے کہ وہ رواں برس ہی کرونا سے بچاؤ کے لیے دوا کے ہنگامی استعمال کی منظوری طلب کریں گے۔
فائزر نے امریکہ میں بچوں کو ویکسین لگانے کی منظوری طلب کر لی
دوا ساز کمپنی 'فائزر' نے امریکہ میں پانچ سے 11 برسوں کے بچوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے لیے امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹری ایجنسی (ایف ڈی اے) سے اجازت طلب کر لی۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق فائزر نے یہ اجازت ایسے وقت میں طلب کی ہے جب امریکہ میں چھوٹے بچوں میں وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔
ایف ڈی اے حکام نے رواں ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ بچوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ڈیٹا کا جائزہ لے رہے ہیں جس کی روشنی میں اکتوبر کے آخر تک بچوں میں ویکسین کے استعمال کی منظوری دی جا سکتی ہے۔