پاکستان میں ویکسین نہ لگوانے والے افراد پر پابندیاں
پاکستان میں حکومت نے ان افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جنہوں نے ستمبر کے آخر تک ویکسین نہ لگوائی ہوں۔
حکومت کے مطابق غیر ویکسین شدہ افراد اندرونِ ملک یا بیرونِ ملک فضائی سفر نہیں کر سکیں گے۔
اسی طرح ہوٹلوں، شاپنگ مالز، شادی ہال اور دیگر مقامات پر ان افراد کے داخلے پر پابندی ہو گی جنہوں نے 30 ستمبر تک ویکسین نہ لگوائی ہو۔
حکام کے مطابق روز مزہ کی ضروریات تک رسائی کے لیے یکم اکتوبر سے قبل ویکسین لگوانا لازمی ہے۔
کیا کرونا سے دل کی صحت متاثر ہونے کا خطرہ ہوسکتا ہے؟
کرونا وائرس امراضِ قلب میں مبتلا افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کووڈ-19 ایسے مریضوں کے دل کو بھی متاثر کرتا ہے جنہیں پہلے سے کسی قسم کا دل کا عارضہ لاحق نہیں ہوتا۔ اس کی کیا وجہ ہے اور کیا اس سے بچوں اور نوجواںوں کو بھی خطرہ ہے؟ جانیے اس ویڈیو میں۔
یوٹیوب کا ویکسین سے متعلق گمراہ کن معلومات بلاک کرنے کا اعلان
دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ سائٹ یوٹیوب نے اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس اور دیگر ویکسین سے متعلق گمراہ کن مواد اور بے بنیاد دعووں پر مبنی ویڈیوز اور چینلز کو بلاک کر دیا جائے گا۔
یوٹیوب نے بدھ کو اپنی ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ کرونا ویکسین سے متعلق نہ صرف ان غلط معلومات کو روکا جائے گا بلکہ منظور شدہ دیگر ویکسینز سے متعلق گمراہ کن مواد کو بھی بلاک کیا جائے گا۔
یوٹیوب کے مطابق وہ طِب سے متعلق اپنی پالیسی گائیڈ لائنز کا دائرہ وسیع کرنے جا رہے ہیں اور نئی گائیڈ لائنز کے تحت عالمی ادارۂ صحت یا کسی بھی ملک کے مقامی صحت حکام کی جانب سے ویکسین کو مؤثر قرار دیے جانے کو اپنی گائیڈ لائنز میں شامل کر رہے ہیں۔
یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اُس نے گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے کے دوران کرونا وائرس سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی کی مرتکب ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد ویڈیوز اپنے پلیٹ فارم سے ہٹائی ہیں۔
نئی تحقیق: وائرس سے ذیابیطس ہونے کا زیادہ اندیشہ
ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے بعض مریضوں کے جسم میں اس عضو پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو انسولین بناتا ہے۔ ایسے میں ان افراد کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔
اٹلی کی یونیورسٹی آف سیانا کی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ کرونا وائرس انسولین پیدا کرنے والے لبلبے کے سیلز کو ہدف بناتا ہے۔
اسی طرح کی ایک اور تحقیق امریکہ میں نیو یارک کی ’ویل کارنیل میڈیسن‘ نے بھی کی تھی جس میں سامنے آیا کہ کرونا وائرس انسولین بنانے والے بیٹا سیلز کو بھی ہدف بناتا ہے جس سے ان کی انسولین پیدا کرنے کی استعداد کم ہو جاتی ہے۔ انسولین جسم میں گلوکوز کی مقدار کو ضرورت کے مطابق برقرار رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔