پاکستان: ایک ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید ایک ہزار چار افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ روز 43 ہزار 389 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مثبت کیسز کی شرح دو اعشاریہ تین ایک فی صد رہی۔
کرونا وائرس کی روک تھام کے ذمہ دار ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر این سی او سی نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ ملک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا کے شکار 28 مریض دم توڑ گئے ہیں اور 2473 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
’ہو سکتا ہے وبا کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو‘
امریکہ میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کرونا وائرس کبھی بھی مکمل طور پر ختم نہ ہو۔
صدر جو بائیڈن کے مشیر اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ انفیکشس ڈیزیز کے ڈائریکٹر انتھونی فاؤچی نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران خدشہ ظاہر کیا کہ دنیا کا بیشتر حصہ ہو سکتا ہے کہ کرونا وائرس کے زیرِ اثر ہی رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ مستقبل قریب یا ممکنہ طور پر کبھی بھی اس قدر تیزی سرعت سے پھیلنے والے وائرس کو حقیقی معنی میں ختم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کا بیشتر حصہ اب بھی وبا کے زیرِ اثر ہے البتہ نئے کیسز میں اضافے کی شرح میں کمی آ چکی ہے۔
ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے واضح کیا کہ صحت عامہ کے ماہرین وبا پر قابو پانے کی کوششوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جس سے عمومی حالات کی جانب واپسی ہو جس کا سب کو شدت سے انتظار ہے۔
کیا سوشل میڈیا نوجوانوں کو ڈپریشن کا شکار کر رہا ہے؟
'اسٹیٹ آف مینٹل ہیلتھ ان امریکہ' نامی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس میں ایک سال پہلے کی نسبت 15 لاکھ زائد افراد کو ذہنی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ نوجوانوں میں سب سے زیادہ ڈپریشن کی علامات دیکھی گئیں۔ دیکھیے لائف تھری سکسٹی میں ماہر نفسیات ڈاکٹر کمال باہل سے صبا شاہ خان کی گفتگو۔
دنیا کی 70 فی صد آبادی کو ویکسین لگانے کی ضرورت ہے: عالمی ادارہٴ صحت
عالمی ادارہٴ صحت کے ماہرین نے کہا ہے کہ 2022 کے وسط تک دنیا کی 70 فی صد آبادی کو کرونا ویکسین کی مکمل خوراکیں لگ جانی چاہئیں تاکہ یہ بات یقینی بنائی جا سکے کہ وبا مزید خطرناک شکل نہ اختیار کر لے۔
حکمت عملی سے متعلق ماہرین کے 15 ارکان پر مشتمل مشاورتی گروپ (ایس اے جی اِی) نے، جس کا کام عالمی ادارہٴ صحت کی ویکسین کی پالیسی اور حکمتِ عملی پر سفارشات طے کرنا ہے، اپنا چار روزہ اجلاس مکمل کر لیا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ اگر امیر ملک ویکسین کی خوراکوں کی ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کریں اور غریب ملکوں کے ساتھ مساوات برتی جائے، یہ پہلو اس وقت نظر انداز ہو رہا ہے، تو آئندہ سال کے وسط تک اتنی ویکسین دستیاب ہوں گی کہ ہر ایک کو ویکسین لگائی جا سکے۔
عالمی ادارہٴ صحت کی 'امیونائزیشن اینڈ بائیولوجیکل ویکسینز' کی سربراہ کیتھرین او برائن نے کہا ہے کہ ان علاقوں پر ویکسین کی درکارخوراکیں فراہم کی جائیں جو ویکسین لگانے کی مہم میں بُری طرح سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
او برائن نے کہا کہ جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا وبا کا پھیلاؤ جاری رہے گا اور کرونا کی نئی اقسام سامنے آتی رہیں گی۔