امریکہ: کرونا کے مریضوں کے اسپتال میں داخلے کی شرح 45 فی صد ہوگئی
امریکہ میں وبائی امراض کے ماہر انتھونی فاؤچی نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے اومیکرون ویرئینٹ کے باعث اسپتالوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی کا کہناہے ک اگرچہ اومیکرون سے متاثر ہونے کی صورت میں ظاہر ہونے والی علامات زیادہ شدید نہیں ہیں لیکن بڑھتے ہوئے کیسز کی صورت میں نظامِ صحت پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
سات روز کے اندر امریکہ میں کرونا کے پانچ لاکھ 40 ہزار مزید کیسز سامنے آئے ہیں اور اس دوران اسپتال میں داخل ہونے والے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
کرونا وائرس سے متاثرہ ایک لاکھ 11 ہزار افراد اسپتالوں میں داخل ہوچکے ہیں۔یہ امریکہ میں کرونا سے متاثرہ افراد کی اسپتال میں داخل ہونے کی جنوری 2021 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
بھارت: اومیکرون سے پہلی ہلاکت کی تصدیق، کیسز کی یومیہ شرح میں 57 فی صد اضافہ
بھارت میں کرونا کے یومیہ مثبت کیسز کی شرح میں 57 فی صد اضافہ ہوگیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے بھارت کی وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھارت میں کرونا وائرس کے 90 ہزار 928 کیسز کی تشخیص ہوئی۔ ایک روز قبل یہ تعداد 58 ہزار سے زائد تھی۔
بھارت میں کرونا سے ایک روز کے دوران 325 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ جب کہ وبا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ساڑھے تین کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت میں کرونا کے اومیکرون ویریئنٹ کے باعث پہلی ہلاکت کی تصدیق بھی ہوگئی ہے۔
پاکستان: تین ماہ بعد کرونا کے ایک ہزار سے زائد یومیہ کیسز ریکارڈ
پاکستان میں چوبیس گھنٹے کے دوران کرونا وائرس سے ایک ہزار 85 افراد متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
گزشتہ تین ماہ میں پہلی بار کرونا وائرس کے ایک ہزار سے زائد یومیہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا کے پھیلاؤ کی شرح دو فی صد سے بڑھ گئی ہے۔
آسٹریلیا: چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 72 ہزار کیسز کی تشخیص
آسٹریلیا میں کرونا وائرس سے چوبیس گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 72 ہزار 392 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
کرونا کے تیزی سے پھیلنے والے ویریئنٹ اومیکرون کے باعث آسٹریلیا میں یہ کرونا سے متاثرہ افراد کی ریکارڈ یومیہ تعداد ہے۔ اس سے قبل ایک روز کے دوران 64 ہزار 774 ریکارڈ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کرونا کی روک تھام کے لیے آسٹریلیا میں کڑی پابندیاں عائد کی گئی تھیں جس کے باعث کیسز کے دباؤ میں کمی واقع ہوئی تھی۔
لیکن کیسز کی حالیہ بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر وبائی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کو بدترین صورتِ حال کا سامنا ہوسکتا ہے۔