لاپرواہی نہ برتیں، اومیکرون کافی مہلک ہے، ماہرین
اومیکرون پر لیبارٹریز میں کیے جانے والے نئے مطالعاتی جائزون سے پتہ چلا ہے کہ کرونا وائرس کی یہ نئی جینیاتی قسم پھیپھڑوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتی جتنا اس سے پہلے ڈیلٹا ویرینٹ سے پہنچ رہا تھا۔
اس کے علاوہ اومیکرون کے باعث اسپتال میں علاج کے لیے داخل ہونے والوں میں ایسے افراد کی تعداد کم ہے جنہیں کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگ چکی ہے۔ اسی طرح ویکسین شدہ افراد میں اموات کی تعداد بھی اس سے پہلے کی جینیاتی اقسام کے مقابلے میں کم ہے۔
لیکن اسی تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اومیکرون امریکہ میں اب بھی روزانہ اوسطاً 1200 افراد کی جانیں لے رہا ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال جولائی اور اگست کے دوران کرونا وائرس کی دوسری لہر کے عروج کے دنوں کے مساوی ہے۔
سندھ میں اومیکرون کے مزید 95 کیسز
پاکستان کے صوبۂ سندھ میں کرونا وائرس کے اومیکرون ویریئنٹ کے مزید 95 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اومیکرون ویریئنٹ کے یہ نئے کیسز28 دسمبر 2021 سے دو جنوری 2021 کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
صوبے میں اومیکرون سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 173 سے بڑھ کر 268 ہوچکی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کیسز کی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ کرونا کا نیا ویریئنٹ تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی روک تھام احتیاتی تدابیر سے کرنا ہوگی۔
پاکستان میں مسلسل تیسرے روز ایک ہزار سے زائد کیسز
پاکستان میں مسلسل تیسرے روز ایک ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک میں کرونا کے 12 سو 93 نئے کیسز کی تشخیص ہوئی ہے۔
ملک میں وبا کے پھیلاؤ کی شرح ڈھائی فی صد ہو گئی ہے۔
این سی او سی کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران گلگت بلتستان میں کرونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
بھارت: کرونا وائرس کے یومیہ کیسز میں پانچ گنا اضافہ
بھارت میں کرونا وائرس کے یومیہ کیسز ایک لاکھ 17 ہزار سے تجاوز کر گئے۔
وزارتِ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران بھارت میں کرونا کے یومیہ کیسز میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت بھارت میں کرونا کے فعال کیسز کی تعداد تین لاکھ 71 ہزار 363 ہے۔
بھارت بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں اومیکرون ویریئنٹ کے بعد کرونا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دارالحکومت دہلی میں کرونا سے متاثرہ کیسز کی تعداد میں پانچ گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ وبا کی روک تھام کے لیے دہلی میں آج سے پیر تک 50 گھنٹے کا لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔