بھارت میں نئی پابندیاں عائد
بھارت میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث نئی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ریاست مہاراشٹرا میں پیر سے سوئمنگ پولز اور جم بند کر دیے گئے ہیں جب کہ 15 فروری تک کالجز بھی بند رہیں گے۔
ریاست نے ہفتے کو ایک اعلان میں کہا تھا کہ یہ پابندیاں پیر سے نافذ العمل ہوں گی اور صرف مکمل ویکسین لگوانے والے افراد ہی نجی دفاتر میں آ سکیں گے۔
دفاتر میں مجموعی افرادی قوت بھی 50 فی صد تک محدود رکھی جائے گی۔
ادھر ریاست گجرات میں بھی حکام نے رات کے کرفیو کے دورانیے میں توسیع کر دی ہے اور تمام ہیلتھ کیئر اسٹاف کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔
بھارت میں ایک لاکھ 79 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ
بھارت میں کرونا وائرس کے یومیہ کیسز ایک مرتبہ پھر بڑھ رہے ہیں اور ملک میں اومیکرون ویریئنٹ کا پھیلاؤ تیز ہو رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیر کو بھارت میں کرونا وائرس کے ایک لاکھ 79 ہزار 723 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ زیادہ تر کیسز ملک کے بڑے شہروں دہلی، ممبئی، کولکتہ میں رپورٹ ہوئے جہاں اومیکرون کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے۔
بھارت میں کرونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 146 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد چار لاکھ 83 ہزار 936 ہو چکی ہے۔
اموات کے لحاظ سے بھارت اس وقت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ کرونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکہ اور برازیل میں ہوئی ہیں۔
'پاکستان نے ایک لاکھ افغان شہریوں کو ویکسین لگائی'
افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایک لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی ہے۔
پیر کو اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار نومبر 2021 سے اب تک کے ہیں۔
پاکستانی سفیر کے مطابق ویکسینز ان افغان شہریوں کو لگائی گئی جو مختلف سرحدی گزرگاہوں سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔
'اسرائیل کی 40 فی صد آبادی کرونا کا شکار ہو سکتی ہے'
اسرائیل کے وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس کی حالیہ لہر کے دوران ملک کی 40 فی صد آبادی وبا سے متاثر ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اتوار کو اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں جو ڈیٹا پیش کیا گیا، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل میں 20 سے 40 لاکھ افراد کرونا کی حالیہ لہر کا شکار ہو سکتے ہیں۔
تقریباً 94 لاکھ کی آبادی رکھنے والے اسرائیل میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے ملک میں جو کیسز رپورٹ ہوئے، ان کی تعداد اس سے پچھلے ہفتے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تھی۔
اسرائیل کی وزارتِ صحت کے مطابق ہفتے کو 17 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
اس صورتِ حال میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ان کے بقول لاک ڈاؤن کی پالیسی اومیکرون ویریئنٹ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی اور پابندیوں کے ملکی معیشت پر بھی سخت اثرات ہوں گے۔