امریکہ: ویکسین نہ لگوانے والے فوجیوں کو فارغ کرنے کا اعلان
امریکی فوج نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ ویکسین لگوانے سے انکار کرنے والے سپاہیوں کو فارغ کرنے کے عمل کا آغاز کرے گی۔
فوج نے ایک بیان میں کہا کہ کمانڈروں کو ایسے سپاہیوں کے خلاف فوری طور پر غیررضاکارانہ انتظامی علیحدگی کی کارروائیوں کا آغاز کرنا ہوگا جنہوں نے کرونا ویکسی نیشن سے انکار کیا ہے اور ان کے پاس استثنیٰ کی منظور شدہ یا زیرِالتوا درخواست بھی نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حکم تمام فوجی سپاہیوں، ایکٹیو ڈیوٹی آرمی ریزروسٹ اور کیڈٹس پر لاگو ہو گا۔
فوج کے سیکریٹری کرسٹین وارمتھ نے ایک بیان میں کہا کہ ''فوج کی تیاری جوانوں پر منحصر ہوتی ہے جو تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور اپنے ملک کے لیے جنگ جیتنے پر تیار ہوتے ہیں۔''
ان کے بقول ویکسین نہ لگوانے والے سپاہی فورس کے لیے خطرہ ہیں اور وہ تیاریوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 42 اموات
پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں مزید 42 مریض زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 59 ہزار 786 کرونا ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے پانچ ہزار 830 میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ملک میں کرونا مثبت کیسز کی شرح نو اعشاریہ 75 فی صد رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت ایک ہزار 590 کرونا مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
معمول کی زندگی کی طرف واپسی، دنیا بھر میں کرونا پابندیاں اٹھنے لگیں
کلبوں میں رات گئے تک پارٹیوں میں شرکت کرنے، سینماگھروں کی آرام دہ نششتوں پر ٹانگیں پھیلا کر اپنی پسند کی فلمیں دیکھنے اور چہرے پر ماسک لگائے بغیر عوامی مقامات پر جانے کے مناظر اب یورپ اور امریکہ میں بتدریج عام ہوتے جا رہے ہیں۔
کئی ملک آہستہ آہستہ کرونا وبا سے منسلک پابندیاں نرم کر رہے ہیں، جن کا خیال ہے کہ اومیکرون اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
کرونا وائرس کی عالمگیر وبا کو پھیلے ہوئے تقریباً دو سال کا عرصہ ہو چکا ہے جس میں انتہائی تیز رفتاری سے پھیلنے والا ویرینٹ اومیکرون بھی شامل ہے۔
اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں صرف دس ہفتوں میں اومیکرون نے 9 کروڑ لوگوں کو متاثر کیا، جب کہ اس سے قبل 2020 میں کرونا وائرس کے دیگر ویرینٹس نے ایک سال کی پوری مدت کے دوران اتنے ہی لوگوں کو اپنا ہدف بنایا تھا۔
عالمی ادارہ صحت نے اس ہفتے کہا ہے کہ اب کچھ ملک، اگر ان کے ہاں وائرس کے خلاف مدافعت کی سطح بلند ہو چکی ہے، ان کے صحت کا نظام مضبوط ہے اور وہاں وبا کے اشاریے نیچے جا رہے ہیں، تو وہ احتیاط کے ساتھ پابندیاں نرم کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
نیا ویرینٹ بی اے ٹو، اومیکرون سے زیادہ سخت نہیں، عالمی ادارۂ صحت
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اومیکرون کا سامنے آنے والا نیا ویرینٹ مرض کے لحاظ سے موجودہ اومیکرون کے مقابلے میں زیادہ سخت نہیں ہے۔
عالمی ادارے کی کوویڈ۔19 پر کنٹرول سے متعلق ٹیم کے ڈاکٹر بورس پاولین نے ایک آن لائن بریفنگ میں بتایا کہ عمومی اومیکرون جسے بی اے۔1 کہا جاتا ہے، اس کا نیا ویرینٹ بی اے۔2 ، ڈنمارک اور کئی دوسرے ملکوں میں اومیکرون کی جگہ لے رہا ہے۔
ڈاکٹر پاولین کا کہنا تھا کہ" ان ملکوں پر نظر ڈالنے سے جہاں بی اے۔2 ویرینٹ ، اومیکرون کی جگہ لے رہا ہے، وہاں اسپتالوں پر بوجھ میں توقع سے زیادہ اضافہ نہیں نظر آ رہا"۔
پاولین نے کہا کہ "ان کی یہ معلومات ڈنمارک سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار پر مبنی ہیں ، جو پہلا ایسا ملک ہے جہاں اومیکرون کی جگہ اس کے نئے ویرینٹ بی اے۔2 نے لے لی ہے"۔