کراچی: پورے ملک کو کما کر دینے والے شہر کراچی میں اِن دنوں غربت کی شرح اتنی بڑھ رہی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کی کفالت کرنے سے بھی مجبور ہوگئے ہیں۔ کراچی کے ایدھی ویلفِئر سینٹر میں ایسا ہی ایک لاچار باپ اپنے ننھے منے کمسن چھ بچوں کو ایدھی ہوم یہ کہہ کر چھوڑ گیا کہ ان کو پالنا میرے بس کی بات نہیں رہی۔ لاکھوں لوگوں کیلئے درد دل رکھنے والے ایدھی ہوم کے سربراہ عبدالستار ایدھی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ’گزشتہ روز ایک شخص اپنے چار بیٹوں اور دو ننھی بیٹیوں کو یہاں لاکر چھوڑ گیا۔ بچے کے والد ارشاد نامی شخص کا کہنا تھا کہ اگر ایدھی ہوم ان بچوں کو نہیں رکھےگا، تو میں ان بچوں کو قتل کرکے خودکشی کرلوں گا۔ ایدھی ہوم کی انتظامیہ اِن کمسن بچوں کو کھلونوں سے بہلا رہی ہے۔ بچے والدین کو یاد بھی کرتے ہیں اور اداس بھی ہوتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے معاشرے میں پھیلنے والی اس غربت کو دولت کی غیر مساویانہ تقسیم قرار دیا ہے۔
بچے پالنا میرے بس کی بات نہیں: غربت کا مارا باپ
ایک لاچار باپ، کراچی کے ’ایدھی ویلفِئر سینٹر‘ میں اپنے ننھے منے کمسن چھ بچوں کو یہ کہہ کر چھوڑ گیا ہے کہ ان کو پالنا میرے بس کی بات نہیں رہی۔ عبدالستار ایدھی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ غربت کا شکار یہ شخص اپنے چار بیٹوں اور دو ننھی بیٹیوں کو یہاں لاکر چھوڑ گیا
5
ایدھی ہوم کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسے کئی دفعہ والدین غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو ایدھی ہوم چھوڑ کر جاچکے ہیں جن کی کفالت ایدھی ہوم کرہاہے
6
کراچی ایدھی ہوم میں لائے گئے بچوں کا کہنا ہے کہ ان کے والدچھوڑگئے ہیں جبکہ واپس لےجانے کا کچھ نہیں کہا
7
کراچی ایدھی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ایک والد چھ بچوں کو یہ کہہ کر چھوڑگیا کہ وہ غربت کے باعث انکی کفالت نہیں کرسکتا