رسائی کے لنکس

logo-print

اموات کا بڑا سبب: ابتدائی طبی امداد کی عدم فراہمی


حادثے کے بعد سے اسپتال پہنچانے تک کے عرصے کے دوران میں متاثرہ شخص کو طبی امداد دینے کے بارے میں ہمارے عام ڈاکٹروں کو بھی مناسب تربیت نہیں دی جاتی۔

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کسی بھی جان لیوا حادثے کی صورت میں زیادہ تر لوگ زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوتے ہیں یا ابتدائی طبی امداد نہ ملنے سے؟

ہر روز ملکی اخبارات ایسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں جن کے آخر میں لکھا ہوتا ہے کہ ٹریفک حادثے کے بعد فلاں زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا۔ گھروں میں بچے شربت کی بوتل میں بیچی جانے والی بلیچ پینے، جلنے یا کرنٹ لگنے سے مر جاتے ہیں یا کوئی دل کے دورے یا ایسی ہی کسی مرض کی وجہ سے انتقال کرجاتا ہے۔

ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی جان اس لیے بھی نہیں بچائی جا پاتی کہ ان کے آس پاس موجود کسی بھی فرد کو ابتدائی یا فوری طبی امداد دینا نہیں آتی۔

پاکستان میں ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے والے نجی ادارے 'امن فاؤنڈیشن' سے منسلک ڈاکٹر سید وہاج جنیدی کا کہنا ہے کہ اگر کھانا کھاتے ہوئے کسی کے حلق میں کوئی چیز پھنس جائے، کسی کی کوئی اہم رگ کٹ جائے یا کوئی غلطی سے کوئی زہریلی چیز پی لے تو بہت آسانی سے اس کی جان بچائی جا سکتی ہے بشرط یہ کہ متاثرہ شخص کے آس پاس کوئی فرسٹ ایڈ جانتا ہو۔

'وائس آف امریکہ' سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر وہاج نے بتایا کہ پاکستان میں طبی سہولتوں اور بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ حادثات کا شکار ہونے والے مریضوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔

ان کے بقول عام لوگوں میں ابتدائی طبی امداد سے متعلق معلومات بہت کم ہے اور حادثے کے بعد سے اسپتال لانے تک کے عرصے کے دوران میں متاثرہ شخص کو طبی امداد دینے کے بارے میں ہمارے عام ڈاکٹروں کو بھی مناسب تربیت نہیں دی جاتی۔

ڈاکٹر جنیدی کہتے ہیں کہ ان وجوہات کے سبب حادثے کے فوری بعد کا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے لوگ عام طور پر جائے حادثہ یا اسپتال کے راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر وہاج طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی فرسٹ ایڈ کی تربیت دے رہے ہیں جو ان کے بقول گو کہ صرف چند گھنٹوں پر مشتمل ہے لیکن اس سے کئی قیمتی جانیں بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں حادثات بہت عام ہیں، چند بنیادی باتیں جیسے کسی حادثے کی جگہ خود کو محفوظ رکھتے ہوئے، زخمی کو مزید نقصان نہ پہنچاتے ہوئے خطرے سے دور کرنا اور فوری طور پر ایمرجنسی امداد فراہم کرنے اور بروقت ایمبولینس بلانے سے ہی کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

پاکستان میں اسکول ، کالجز، مساجد، مدرسوں، جلسے جلوسوں اور ایسے ہی بڑے بڑے اجتماعات میں عموماً رضاکار ہی کئی قسم کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔

اگر ان میں سے کچھ لوگ بھی ابتدائی طبی امداد میں تربیت یافتہ ہوں تو ہمارے اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں میں کمی آ سکتی ہے جن کے آخر میں "زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک" ہونے کا ذکر ہو تا ہے کیوں کہ ڈاکٹروں کے مطابق ایسی بیشتر اموات ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG