رسائی کے لنکس

أفغانستان کے خلیل پارسا نے بدعنوانی کی روک تھام کا ایوارڈ جیت لیا


فائل فوٹو

انگولا ، یوکرین ، ملائیشیا اور گوئٹے مالا کے سر گرم کارکنوں کے ساتھ اپنے کام پر ایوارڈ حاصل کرنے والے خلیل پارسا نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف لڑنے والوں کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔

دنیا بھر میں بد عنوانی کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے سر گرم کارکنوں کو پیر کےروز کیپیٹل ہل پر نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی کی جانب سے ایوارڈ دیے گئے، جن میں أفغانستان اور گوئٹے مالا کے کارکن بھی شامل تھے۔

اس موقع پر ایوارڈ حاصل کرنے والوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ان مشکلات کا بھی ذکر کیا جن کا انہیں سامنا رہا۔

انہوں نے اپیل کی کہ اپنا کام جاری رکھنے کے لیے ان کی مدد کی جائے، تاکہ دنیا کو بدعنوانی سے پاک کیا جاسکے۔

ایوان کے اسپیکر پال ریان نے أفغانستان کے ا یک سر گرم کارکن خلیل پارسا کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پارسا کی ان قربانیوں کا معترف ہے جو انہوں نے بدعنوانی کا راستہ روکنے کے لیے دیں ہیں۔

پال ریان کا کہناتھا کہ خلیل کو اپنی ان کوششوں کے دوران 9 بار گولیاں کھانی پڑیں۔ ہم ان کے اس جوش وجذبے کے معترف ہیں۔

أفغانستان میں صرف خلیل پارسا کو ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی خطرات کا سامنا ہے جو بدعنوانی کےخلاف جنگ میں شریک ہیں۔

خلیل پارسا کا کہنا تھا کہ یہ صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ أفغانستان میں بد عنوانی کے خلاف لڑنے والے سبھی سر گرم کارکنوں کے لیے ایک خطرہ ہے۔ یقینی طور پر میں پریشان ہوں لیکن ہم سب کو جمہوریت کے لیے، قانون کی بالادستی کے لیے اور جواب دہی کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

انگولا ، یوکرین ، ملائیشیا اور گوئٹے مالا کے سر گرم کارکنوں کے ساتھ اپنے کام پر ایوارڈ حاصل کرنے والے خلیل پارسا نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف لڑنے والوں کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں بد عنوانی کے خاتمے اور اس کے خلاف لڑنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ ہم ہر دن أفغانستان میں کرتے ہیں۔

ان سر گرم کارکنوں نے بدعنوانی کو قانون ا ور جمہوریت کی بالا دستی پر غالب ہونے سے بچانے کی جو کوشش کی۔ امریکہ ایسے افراد کی مدد کرنا انتہائی ضروری سمجھتا ہے۔

ایوان کے اسپیکر پال ریان نے کہا کہ اگر امریکہ لوگوں کو آزادی، انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے اکٹھا نہیں کرے گا تو پھر کون کرے گا۔

گوئٹے مالا سے تعلق رکھنے والی کلاؤڈیا ایسکوباکے لیے امریکہ ان کی آخری پناہ گا ہ تھا جنہیں اس وقت وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا جب وہ حکومت کی بد عنوانیوں کے خلاف ایک نمایاں آواز بن گئیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اب یہ گوئٹے مالا کے لوگوں پر ہے کہ وہ احتساب کے لیے زور دیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے ادارے کمزور ہیں تو ہم بد عنوانی کے خلاف نہیں لڑ سکتے اور یہ إصلاحات جنہیں اس وقت یہاں زیر بحث لایا جا رہا ہے، ان میں عدلیہ کی آزادی اور ججوں کے انتخاب کے طریقے کو شامل کیا جانا چاہیے۔ ایسا صر ف اس وقت ہو گا جب میرے ملک کے تمام شعبے اکٹھے ہو ں گے اوراس منصوبے کی تائید کریں گے جو اس وقت ہماری کانگریس میں ہے۔

ان سر گرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ خطرے کے دوران تبدیلی کی ایک چھوٹی سی علامت امید کا پیغام لاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG