رسائی کے لنکس

logo-print

شام: اسد مخالف بغاوت میں اب تک 40000سے زائد افراد ہلاک


باغیوں اور حقوق انسانی سے متعلق سرگرم شامیوں کا کہنا ہے کہ کئی روز سے جاری لڑائی کے بعد جمعرات سے مدائین کے فوجی اڈے اور قریبی مضافات پر اب باغیوں کا قبضہ ہو چکا ہے

شام کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال مارچ میں صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت کے بعد سے اب تک شام میں 40000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جمعرات کے روز انسانی حقوق سے متعلق سیرئین آبزرویٹری نے’ وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 28000شہری اور لڑاکا باغی شامل ہیں۔ ان میں 10000سے زائد شامی فوجی، تقریباً 1400منحرفین اور تقریباً 600شناخت نہ ہونے والے دیگر افراد شامل ہیں۔

دریں اثنا، شامی باغیوں نے کہا ہے کہ اُنھوں نے دیار الزور کے مشرقی صوبے میں ایک فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔

باغیوں اور حقوق انسانی سے متعلق سرگرم شامیوں کا کہنا ہے کہ کئی روز سے جاری لڑائی کے بعد جمعرات سے مدائین کے فوجی اڈے اور قریبی مضافات پر باغیوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔

مشرق سے آنے والی یہ اطلاع ایسے میں ملی ہے جب شامی جنگی طیاروں نے حلب کے شمالی شہر میں ایک فیلڈ اسپتال کے برابر والی عمارت کو مسمار کردیا ہے، جِس میں درجن بھر سے زائد لوگ ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ بدھ کی رات یہ عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔
XS
SM
MD
LG