رسائی کے لنکس

logo-print

سب میرین کیبلز میں فنی خرابی کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ کا بحران


عملہ ایک سب میرین کیبل کی مرمت کر رہا ہے۔ فائل فوٹو

پاکستان کو انٹرنیٹ کے ذریعے بیرونی دنیا سے منسلک کرنے والی دو سب میرین کیبلز میں تکنیکی خرابی کے باعث آج منگل کے روز پورے ملک میں انٹرنیٹ سروس شدید طور پر متاثر رہی۔

پاکستان کی معروف ٹیلی کام کمپنی پی ٹی سی ایل نے سوشل میڈیا پر الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس کا عملہ سمندر کی تہہ میں ان کیبلز کی مرمت کر رہا ہے، تاکہ انٹرنیٹ سروس بحال کی جا سکے۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’انٹرنیشنل سب میرین کیبلز میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی ہے۔‘‘

اطلاعات کے مطابق، پاکستان میں انٹرنیٹ ٹریفک کو کنٹرول کرنے والی دو سب میرین کیبلز IMEWE اور SEAMEWE4 فنی خرابی کے باعث منقطع ہو گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جب تک یہ فنی خرابی دور نہیں کر لی جاتی، پاکستان کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ کے صارفین کو انتہائی سست رفتار انٹرنیٹ کنکشن کا سامنا رہے گا۔

انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ عملہ انٹرنیٹ کو دوسرے سب میرین نظاموں پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ فنی خرابی دور ہونے تک صارفین کیلئے انٹرنیٹ کی رفتار بہتر ہو سکے۔

سب میرین کیبلز سمندر کے راستے مختلف ممالک کے درمیان مواصلاتی اور انٹرنیٹ رابطوں کیلئے سمندر کی تہہ میں بچھائی جاتی ہیں۔ تاریخ میں سب سے پہلی سب میرین کیبل 1850 کی دہائی میں بچھائی گئی جو صرف ٹیلی گراف کی سہولت فراہم کرتی تھی۔ بعد میں اس شعبے میں تکنیکی پیش رفت کے ذریعے جدید طرز کی سب میرین کیبلز بچھائی گئیں جو ہر قسم کے مواصلاتی رابطے مہیا کرتی ہیں۔ یہ جدید سب میرین کیبل عام طور پر تقریباً ایک انچ قطر کی ہوتی ہے اور اس کا وزن لگ بھگ ڈھائی ٹن فی میل ہوتا ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کے ذریعے بیرونی دنیا سے رابطے کیلئے 6 سب میرین کیبلز استعمال کی جارہی ہیں جو اس علاقے میں دیگر ممالک کی طرف سے استعمال کی جانے والی سب میرین کیبلز کی تعداد کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں اس وقت انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 7 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG