رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت مذاکرات کے لیے رضا مند کیوں نہیں ہوتا؟


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون کونسل(ایس سی او) کے سربراہ اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے وزراء اعظم نے مصافحہ اور مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا ہے، تاہم باقاعدہ ملاقات نہیں ہو سکی۔

رواں سال کے آغاز سے ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں، فروری میں بھارتی کشمیر کے ضلع پلواما میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر ہوئے خود کش حملے کے نتیجے میں 40 اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی اور دونوں ممالک نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک دوسرے کے طیارے مار گرانے کے بھی دعوے کیے تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خطرات کو دیکھتے ہوئے عالمی قوتوں کی مداخلت سے معاملات میں کچھ بہتری آئی تھی تاہم دونوں ممالک تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں کر سکے۔

بھارت کا یہ موقف رہا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے جب تک پاکستان بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے اپنی ذمین کا استعمال نہیں روکتا مذاکرات بے سود ہیں، تاہم پاکستان کا یہ موقف ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے جبکہ بھارت اپنے زیر اثر کشمیر میں بھی ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے لیے بار بار بھارت کو پیشکش کی گئی ہے تاہم بھارت اسے مسترد کرتا آیا ہے۔

پاکستان کی پیشکش اور بھارتی ردعمل

بھارت میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل اور اس کے بعد بھی پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھارت سے اپیل کی تھی کہ وہ جامع مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو حل کیا جا سکے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس سلسلے میں اپنے نئے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کے نام ایک مکتوب بھی ارسال کیا تھا۔

توقع تھی کہ بشکیک میں منعقد ہونے والے ایس سی او اجلاس کے موقع پر دونوں وزرائے اعظم عمران خان اور نریندر مودی کی ملاقات ہو سکتی ہے۔ لیکن بھارت نے اجلاس سے قبل ہی اعلان کر دیا تھا کہ دونوں میں کوئی باضابطہ ملاقات نہیں ہوگی۔

بشکیک میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات تو ہوئی لیکن وہ دعا سلام اور مزاج پرسی تک ہی محدود رہی۔

'دنیا کا ہر مسئلہ بات چیت سے حل ہو سکتا ہے'

نئی دہلی کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دنیا کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جو بات چیت سے حل نہ ہو سکتا ہو۔

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت فی الحال پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع نہیں کرنا چاہتا۔

ایک سینئر تجزیہ کار نیلوفر سہروردی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پلواما حملہ اور دونوں ملکوں کی فضائی کاروائی اور پھر بھارت میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی اتنی جلدی بات چیت کا امکان نہیں ہے۔

ان کے مطابق بھارت کی حکمراں جماعت نے الیکشن میں پاکستان کا مسئلہ زور شور سے اٹھایا تھا اور اس کا اثر بھی نظر آیا۔ لہٰذا ابھی یہ امید نہیں کی جانی چاہیے کہ دونوں ملکوں میں فوری طور پر بات چیت ہو سکتی ہے۔

نیلو فر سہروردی پر امید ہیں کہ مستقبل میں مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ کرتار پور کوریڈور کے سلسلے میں دونوں ممالک کے پاس بات چیت شروع کرنے کا موقع موجود ہے۔ ان کے بقول کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے کے گرفتار ماہی گیروں کو رہا بھی کر رہے ہیں۔

بھارتی تجزیہ کار کے مطابق بہت سے پاکستانی مریض علاج کے لیے بھارت بھی آتے ہیں، یوں ایسا نہیں ہے کہ دونوں ممالک مکمل طور پر ایک دوسرے سے قطع تعلق ہیں۔

نیلوفر کا کہنا ہے کہ مودی اپنے پہلے دور حکومت میں اچانک پاکستان چلے گئے تھے۔ اس سے قبل انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا تھا۔ لہٰذا کشیدگی خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو جائے۔ دونوں کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی ہوگا۔

'بھارتی حکومت پر انتہا پسند غالب ہیں'

نئی دہلی کے ایک معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم کا کہنا ہے کہ ابھی موجودہ حکومت پر سخت گیر عناصر کا دباؤ ہے۔

ان کے بقول وزیر اعظم مودی کو وزیر اعظم عمران خان کی پیشکش کا مثبت جواب دینا چاہیے۔ ان کے خیال میں خطے میں قیام امن کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مودی کے اندر قوت فیصلہ ہے اور انھیں امید ہے کہ وہ اپنی اس طاقت کا استعمال کریں گے اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کی تجدید کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG