بلدیاتی انتخابات کا تیسرا مرحلہ
پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لیے ہفتہ کو ووٹ ڈالے گئے۔
پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہی۔
کراچی میں پولیس کے 35 ہزار اہلکاروں کے علاوہ 7400 رینجرز اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
کراچی میں 4141 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 1791 ان پولنگ سٹیشنوں کو انتہائی حساس اور 216 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
پنجاب کے 12 اضلاع میں راولپنڈی، سیالکوٹ، نارووال، خوشاب، جھنگ، ملتان، مظفر گڑھ، راجن پور، لیہ، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان اور بہاولپور شامل ہیں۔
کراچی میں اندارج شدہ ووٹوں کی تعداد 70 لاکھ سے زائد ہے۔
ایک نوجوان شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہا ہے۔
اس سے قبل 31 اکتوبر اور 19 نومبر کو پنجاب اور صوبہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں دو مراحل میں انتخابات ہو چکے ہیں۔
پہلے اور دوسرے مراحل میں پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے علاوہ آزاد امیدواروں کا پلہ بھاری رہا جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔
ووٹ ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ ووٹر شناختی کارڈ ہمراہ لائے تاہم شناختی کارڈ زائد المعیاد ہونے کی صورت میں بھی وہ ووٹ ڈال سکے گا۔