افغان کابینہ کے نام منظوری کے لیے پارلیمان کو پیش

کابل

ستائیس نامزد وزراٴ کی فہرست پیش کرنے سے قبل، جس میں تین خواتین شامل ہیں، افغان سربراہ نے قانون سازوں سے خطاب کیا اور افغانستان کو درپیش چیلنجوں کی نشاندہی کی، جس میں سلامتی، مالیات، معیشت اور غربت کے معاملات شامل ہیں

افغان صدر اشرف غنی نے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے, اپنی نامزد کابینہ کے نام منگل کے روز پارلیمان کے ’ولیسی جرگہ‘ (ایوانِ زیریں) کے سامنے پیش کیے۔

اس پیش رفت سےچار ماہ قبل، اشرف غنی نےعہدہ سنبھالا تھا، اور کابینہ کی فہرست کو حتمی شکل دینے کے لیے، وہ کافی دنوں سے اپنے انتخابی مخالف اور بعد میں اتحادی ساجھے دار، عبداللہ عبداللہ سے طویل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔

متنازع صدارتی انتخاب کے بعد، امریکہ کی ثالثی میں طے ہونے والے سمجھوتے کے تحت، نام نہاد قومی یکجہتی کی حکومت جس کی قیادت صدر اشرف غنی کرتے ہیں، اُس میں تقرری کی بنیاد پر عبداللہ ’چیف اگزیکٹو افسر‘ کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔

ستائیس نامزد وزراٴ کی فہرست پیش کرنے سے قبل، جس میں تین خواتین شامل ہیں، افغان سربراہ نے قانون سازوں سے خطاب کیا اور افغانستان کو درپیش چیلنجوں کی نشاندہی کی، جس میں سلامتی، مالیات، معیشت اور غربت کے معاملات شامل ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ دستخط کیے جانے والے سلامتی کے سمجھوتوں کے باعث حکومت کو مدد ملی ہے۔

صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے ایسی کابینہ تشکیل دی ہے جو قانون سازوں کے لیے قابل قبول ہوگی اور یہ کہ اُنہی کو اختیار ہے کہ وہ نامزد کابینہ کے ارکان کو قبول کریں یا کسی ایک یا سارے نامزد وزرا کو مسترد کریں۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ کابینہ کے نامزد ارکان عوام اور ولیسی جرگہ کو جوابدہ ہوں گے۔ اشرف غنی نے نامزد ارکان پر زور دیا کہ وہ رشوت ستانی کے خلاف کمر بستہ ہوں۔

بقول اُن کے، اگر کسی وزیر کے خلاف شک کا اظہار کیا گیا ہو تو اُنھیں ضرور مستعفی ہوجانا چاہیئے۔