2016 میں دس لاکھ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی

اقوم متحدہ کے ادراہ برائے مہاجرین کی طرف سے جمع کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کی 20 فیصد کے قریب آبادی ان افراد پر مشتمل ہے جو سابق مہاجرین ہیں اور ملک" واپس " آ چکے ہیں۔

افغانستان میں رواں سال کے اواخر میں اطلاعات کے مطابق واپس آنے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد 15 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ان پناہ گزینوں کی ملک واپسی ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب کابل کو طالبان عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہو ئی کارروائیوں اور ابھرتے ہوئے شدت گروپ داعش کا سامنا ہے۔

اقوم متحدہ کے ادراہ برائے مہاجرین کی طرف سے جمع کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کی 20 فیصد کے قریب آبادی ان افراد پر مشتمل ہے جو سابق مہاجرین ہیں اور ملک " واپس" آ چکے ہیں۔ ان افراد کی ایک بڑی تعداد اور ملک کے اندر نقل مکانی کرنے والے افغان شہری اور اس کے علاوہ بہت سارے افغان شہری پناہ گزینوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں ان تمام لوگوں (کی صورتحال) تشویش کا باعث ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایسے تمام افراد کی تعداد میں 2015ء میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد 17 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جنہیں امداد کی اشد ضرورت ہے۔ افغانستان واپس آنے والے نئے پناہ گزینوں کی وجہ سے ان افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا۔

افغان عہدیداروں کے مطابق واپس آنے والے افغان پناہ گزین ایران اور یورپ سے بھی واپس آرہے ہیں تاہم ان میں سے سب سے زیادہ تعداد ان کی ہے جو پاکستان سے واپس آ رہے ہیں۔

افغان وزارت برائے مہاجرین کے ترجمان حفیظ اللہ میاں خیل نے کہا کہ "رواں سال نومبر تک تقریباً آٹھ لاکھ افغان (مہاجرین) پاکستان اور ایران سے واپس آئے ہیں اور ہمارا اندازہ ہے کہ یہ تعداد رواں سال کے اواخر تک پاکستان سے واپس آنے والے مہاجرین کی وجہ سے 10 لاکھ ہو جائے گی۔"

حفیظ اللہ نے کہا کہ "افغانستان پلٹنے والے پناہ گزینوں کے حوالے سے ہماری حکمت عملی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ ان کی ہمسایہ ملکوں اور یورپ سے واپسی رضاکارانہ، باوقار، قابل انتظام اور رفتہ رفتہ انداز میں ہو۔"

حفیظ اللہ نے کہا کہ 2016 میں واپس آنے والے افغان مہاجرین کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ یہ تعداد پندرہ لاکھ تک پہنچ گئی ہے مناسب نہیں ہوگا۔

افغان حکومت کے محتاط اندازوں کے مطابق اگر واپس آنے والے مہاجرین کی تعداد 10 لاکھ بھی ہے تو پھر بھی افغانستان کی اتحادی حکومت کے لیے سکیورٹی کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان افراد کی آباد کاری ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

دوسر ی طرف افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں اور دیگر شدت پسندوں کی بڑھتی ہو ئی کارروائیوں کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں افغان شہریوں کو ملک بھر میں نقل مکانی کرنی پڑ رہی ہے۔

تاہم حفیظ اللہ کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کی طرف سے واپس آنے والے افغان مہاجرین کی ملک میں دوبارہ آباد کاری کے لیے رقم مختص کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں زمین بھی فراہم کی جائے گی۔