طالبان کے مزید 900 قیدی رہا
افغان حکومت کی جانب سے طالبان قیدیوں کی رہائی ایسے موقع پر کی گئی ہے جب عسکریت پسندوں کی طرف سے عید کے تین دن تک جنگ بندی کا کہا گیا تھا۔
طالبان کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے دو ہزار طالبان قیدی رہا کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
اس سے قبل افغان حکومت نے یکم مئی کو 100 قیدی رہا کیے تھے۔ انہیں بھی بگرام جیل سے رہائی ملی تھی۔
افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کے مطابق ان قیدیوں کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا گیا ہے۔
جاوید فیصل کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو امن کی کوششوں کو بڑھاوا دینے کی غرض سے رہا کیا گیا ہے تاکہ جنگ بندی میں اضافہ کیا جاسکے۔
افغان حکومت اور طالبان، دونوں کی جانب سے مزید قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔
امن معاہدے کے تحت افغان حکومت طالبان کے پانچ ہزار قیدی رہا کرے گی جب کہ طالبان بھی ایک ہزار افغان قیدیوں کو رہا کرنے کے پابند ہیں۔
انتیس فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں امریکہ کے زیرِ قیادت اتحادی افواج کے انخلا کے ٹائم ٹیبل اور طالبان کی جانب سے امن و امان قائم رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
معاہدے کے تحت افغان حکومت کی قید سے رہائی پانے والے دوبارہ عسکری کارروائیوں کا حصہ نہیں بنیں گے۔
قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد افغان حکومت اور عمائدین پر مشتمل وفد طالبان امن سے بین الافغان مذاکرات کرے گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔