رائفل شوٹنگ، مہنگا مگر بلوچستان کا مقبول کھیل
رائفل شوٹنگ کے مقابلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے مطابق یہ ایک مہنگا کھیل ہے۔ کیوں کہ رائفل دو لاکھ سے 13 لاکھ روپے تک ملتی ہے۔
ان رائفلز میں مختلف رینج تک اہداف کو نشانہ بنانے والی رائفلز شامل ہیں۔
کھلاڑیوں کے مطابق اس کھیل میں دھڑکن کو قابو میں رکھنا نہایت ضروری ہے اگر دھڑکن تیز ہو تو کھلاڑی گھبرا جاتے ہیں اور نشانہ خطا ہونے کا امکان رہتا ہے۔
نشانہ بازی اور رائفل شوٹنگ کو بلوچ ثقافت کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے اور بچے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
نشانہ بازی کے لیے بلوچستان میں مختلف شوٹنگ کلبز بھی قائم ہیں۔
شوٹنگ کے مقابلوں میں درجنوں افراد شریک ہوتے ہیں جب کہ لاکھوں روپے انعامی رقم کی مد میں دیے جاتے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر حکومت حوصلہ افزائی کرے تو یہاں کے مقامی نشانہ باز عالمی سطح پر ملک کا نام روش کر سکتے ہیں۔
لوگوں کی دلچسپی کے پیش نظر بلوچستان میں حکومت نے سرکاری خرچ پر شوٹنگ رینج بھی بنائی ہے۔
رائفل شوٹنگ کے مقابلے ماہر نشانہ باز کی صلاحیتوں کا امتحان ہوتے ہے۔