بلوچستان: 2016ء میں تشدد کے واقعات میں 74 خواتین ہلاک

فائل

خواتین پر تیزاب پھینکنے والوں کو سزا دینے اور کم عمر ی میں شادی کے خلاف قوانین کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے، لیکن بلوچستان میں خواتین پر تشدد روکنے کے لئے کمیشن کا قیام ضروری ہے: اشفاق مینگل

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے عورت فاؤنڈیشن نے صوبے میں خواتین پر تشدد اور اُنھیں ہر اساں کرنے کے خلاف قانون سازی کے باوجود تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عورت فاؤنڈیشن بلوچستان کے سینئر پروگرام افسر اشفاق مینگل نے بتایا کہ خواتین پر تیزاب پھینکنے والوں کو سزا دینے اور کم عمر ی میں شادی کے خلاف قوانین کا ڈرافٹ تیار کرلیا گیا ہے جو صوبائی اسمبلی کے آئندہ سیشن میں پیش کردیا جائے گا۔

تاہم اشفاق مینگل کا کہنا ہے کہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بلوچستان میں صوبائی کمیشن آف دی اسٹیٹس آف ویمن کا قیام ضروری ہوگیا ہے۔

’’بہت سے قبائل اس صوبے کے اندر رہتے ہیں. لیکن کمیشن کا قیام ضروری ہے کیونکہ کب تک خواتین تشدد کے ماحول میں پستی رہیں گی۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہاں بھی خواتین کے حقوق پر کام کرنے والا کمیشن ہو ، جس تک خواتین اپنی شکایات پہنچا سکیں۔ اور کمیشن ان مطالبات کو اسمبلی تک لے جائے جہاں منتخب نمائندے ان کا جائزہ لے سکیں۔"

پاکستان کے اس جنوب مغربی نیم قبائلی صوبے میں کم شرح خواندگی کے باعث خواتین پر گھر یلو اور دیگر تشدد غیر معمولی بات نہیں۔ عورت فاؤنڈیشن کا مطالبہ ہے کہ گھریلو تشدد سے اکثر اوقات خواتین نفسیاتی مریض بن جاتی ہیں، اس لیے سو ل اسپتال میں خواتین کے نفسیاتی امراض کے علاج کے لیے فوری طور پر ایک مر کز قائم کیاجائے۔

بلوچستان کی صوبائی رکن اسمبلی یاسمین لہڑی کہتی ہیں کہ حکومت نے کوشش کی ہے کہ صوبے کے ضلعی ہیڈ کوارٹر میں صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔

"ہم خواتین کو روزگار فراہم کرنے کی کو ششیں کر رہے ہیں لیکن ہمیں کئی پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے، جن پر ہم قابو پا نہیں سکے۔ تاہم کو ششیں جاری ہے کہ خواتین کو کچھ نہ کچھ سہولت فراہم کریں۔ حکومت نے خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی پر زور دیا ہے۔ گھر یلو تشدد کے خلاف قانون بنایا ہے، خواتین کو دفاتر وغیر ہ میں ہراساں کرنے کے خلاف بھی قانون بنایا گیا ہے۔ مگر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

بلوچستان میں سال 2016 کے گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران کاروکاری، خودکشی اور غیرت کے نام پر قتل کے مختلف واقعات میں 74 خواتین کی ہلاکتیں رپورٹ کی گئی ہیں۔ جبکہ سال 2009 سے 2016 تک تشدد کے مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد 700 سے زائد ہے۔