خالدہ ضیاء کہتی ہیں کہ ’یہ سِرے سے انتخابات ہی نہیں تھے‘

’وائس آف امریکہ‘ کی ’بنگلہ سروس‘ سے ایک انٹرویو میں، اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 50 پولنگ اسٹیشنوں پر سرے سے ووٹنگ ہوئی ہی نہیں۔ اُن کا مؤقف تھا کہ وہ اِسے الیکشن نہیں کہیں گی۔ اِس سے لوگوں کے چناؤ کی عکاسی نہیں ہوتی
بنگلہ دیش میں پانچ جنوری کے عام انتخابات پر نہ صرف خود بنگلہ دیش میں اپوزیشن جماعتوں، بلکہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی سخت تنقید کی جارہی ہے۔

بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی لیڈر، خالدہ ضیاٴ کا کہنا ہے کہ یہ سرے سے الیکشن ہی نہیں تھے۔

تاہم،’ وائس آف امریکہ‘ کی ’بنگلہ سروس‘ سے ایک خصوصی انٹرویو میں، جو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا، اُنھوں نے کہا کہ لوگوں کے حقوق کے حصول اور ملک میں جمہوری عمل کو فروغ دینے کے لیے وہ مکالمے کے لیے تیار ہیں۔

بنگلہ دیش کے عام انتخابات ، جو دسویں پارلیمانی انتخابات تھے، خبروں کے مطابق، نہایت پر تشدد ماحول میں ہوئے۔

حکمراں جماعت، عوامی لیگ اور سب سے بڑی اپوزیشن جماعت، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اُن کے اتحادیوں کے درمیان جو رسہ کشی چل رہی تھی، وہ بظاہر شدت اختیار کرتی گئی اور اپوزیشن جماعت، بی این پی اور جماعت اسلامی سمیت ان کی اتحادی پارٹیوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا جب کہ پُر تشدد مظاہرے بھی جاری رہے۔
تاہم، حکمراں جماعت کی لیڈر اور وزیر اعظم حسینہ واجد، جو بنگلہ دیش کے بانی، شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی ہیں، انتخابات کے انعقاد میں پُرعزم رہیں۔

اِس کشیدہ ماحول کےپیشِ نظر امریکہ اور یورپی یونین نے اپنے انتخابی مبصرین کو بھی بنگلہ دیش بھیجنے سے انکار کر دیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق، انتخابات سے پہلے تشدد کے واقعات ہو ہی رہے تھے کہ اِسی دوران جماعتِ اسلامی کے ایک اعلیٰ رہنما عبدالقادر ملا کو مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی دے دی گئی، جِس سے بظاہر کشیدگی اور محاذ آرائی میں مزید اضافہ ہوگیا۔

اِس پسِ منظر میں انتخابات کے دوران پُرتشدد واقعات میں تقریباً 20 افراد کی ہلاکتوں اور بیسیوں افراد کے زخمی ہونے کی خبریں ملی ہیں، جبکہ آتش زنی کے کئی واقعات بھی ہوئے جِن میں پولنگ اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ، خالدہ ضیاٴ کہتی ہیں کہ، ’ سب سے پہلی بات جو میں کہوں گی وہ یہ کہ ملک میں انتخابات ہوئے ہی نہیں۔ یہ کسی کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ لوگوں نے مکمل طور پر موجودہ حکومت کو رد کردیا ہے‘۔

اُنھوں نے اِس طرف توجہ دلائی کہ تقریباً 150سے زیادہ نشستیں بلا مقابلہ جیت لی گئیں۔

خالدہ ضیاٴ کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ قومی اور بین الاقوامی خبروں پر نظر ڈالیں تو ووٹروں کا تناسب انتہائی کم تھا۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 50 پولنگ اسٹیشنوں پر سرے سے ووٹنگ ہوئی ہی نہیں۔اُن کا مؤقف تھا کہ وہ اِسے الیکشن نہیں کہیں گی۔ اِس سے لوگوں کے چناؤ کی عکاسی نہیں ہوتی۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ، بقول اُن کے، آپس میں اختیارات کی تقسیم تھی۔ عوام ایک منصفانہ اور شفاف انتخاب چاہتے ہیں، جو ایک غیرجانبدار حکومت کے تحت ہونا چاہیئے۔

موجودہ سیاسی بحران کے ممکنہ حل اور نئے سرے سے انتخابات کے لیے مکالمے کے حوالے سے، خالدہ ضیاٴ نے کہا، ’ہم نے لوگوں کے حقوق کی بحالی کے لیے کیا ہے۔ ہم عوام کو اُن کے حقوق دینا چاہتے ہیں۔ عوام طویل عرصے سے جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ اِسی لیے، ہم نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے عمل کے فروغ کے لیے ہم مکالمے کے لیے تیار ہیں۔

بنگلہ دیش اپوزیشن کی سربراہ، خالدہ ضیاٴ نے بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے درمیان اتحاد کے ضمن میں اِس بات سے اتفاق کیا کہ یہ ایک سیاسی عمل ہے۔تاہم، اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عوامی لیگ تھی جِس نےماضی میں جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔

اُنھوں نے یاد دلایا کہ 1986ء میں جب ہم نے فیصلہ کیا کہ جنرل ارشاد کی حکومت کی نگرانی میں ہم انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے، تو اچانک عوامی لیگ نے الیکشن میں شریک ہونے کا اعلان کردیا اور اپنے ساتھ جماعتِ اسلامی کو بھی شامل کرلیا۔

خالدہ ضیاٴ نے اِس جانب توجہ دلائی کہ جماعتِ اسلامی کے ساتھ اُن کی پارٹی کے تعلقات، اُن کے اپنے الفاظ میں، ’سٹریٹجک‘ نوعیت کے ہیں۔

اِس سوال کے جواب میں کہ سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے ممکنہ بین الاقوامی مداخلت کے بارے میں اُن کا کیا خیال ہے، خالدہ ضیاٴ نے کہا کہ، ’ہمارا خیال ہے کہ بنگلہ دیش ایک خودمختار ملک ہے۔ لہٰذا، اِس ملک کے لوگ اپنا فیصلہ خود کریں گے۔ ہم کسی قسم کی مداخلت نہیں چاہتے۔ اور عوام اِسے پسند نہیں کرتے۔

اِس سوال کے جواب میں کہ جاری تشدد اور محاذ آرائی سے معیشت کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اُس کا ذمہ دار کون ہے، بیگم خالدہ ضیاٴ نے الزام لگایا کہ اِس کی ذمہ داری حکمراں جماعت پر ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ حکومت، بقول اُن کے، دہشت گرد کارروائیاں کررہی ہے اور لوگوں کو ہلاک کر رہی ہے۔گارمنٹ انڈسٹری کی تباہی کی ذمہ دار بھی حکومت ہے۔

خالدہ ضیاٴ نے، جو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر بھی فائز رہ چکی ہیں اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے بانی مقتول صدر جنرل ضیاٴالرحمٰن کی بیوہ ہیں، کہتی ہیں کہ ہم امن کے خواہاں ہیں اور جمہوری اصولوںٕ کی سربلندی اور عوام کی فلاح و بہبود چاہتے ہیں اور یہی ہمارا نصب العین ہے۔

یاد رہے کہ حکمراں جماعت، عوامی لیگ نے پانچ جنوری کے انتخابات میں 300نشستوں کی اسمبلی میں 230سے زیادہ نشستیں حاصل کر لی ہیں۔

عوامی لیگ کا مؤقف ہے کہ حالیہ انتخابات ایک آئینی ضرورت تھے۔ پارٹی نے پُرتشدد مظاہروں کے لیے اپوزیشن پر کڑی تنقید کی ہے اور اُس پر غیر قانونی حربوں کا الزام لگایا ہے، جِن سے، بقول اُس کے، نہ صرف جمہوری عمل متاثر ہورہا ہے، بلکہ معیشت پر بھی زد پڑ رہی ہے۔خبروں کے مطابق، بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے الیکشن کے بعد اپنے پہلے عام جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات میں، بقول اُن کے، بی این پی کی قیادت میں اپوزیشن کے اتحاد کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں پر قابو پاتے ہوئے ووٹنگ کے 40 فی صد تناسب پر ووٹروں کو مبارکباد دی۔ شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش
نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ، خالدہ ضیاٴ سے کہا کہ تحریک کے نام پر، اُن کے الفاظ میں، تشدد بند کریں، ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی۔


دوسری جانب، خبروں میں بتایا گیا ہے کہ بعض سرکاری عہدیدار مکالمے کے ذریعے از سرِ نو انتخابات سے متعلق عندیہ بھی دے رہے ہیں جنھیں وہ اسمبلی کے گیارہویں الیکشن سے تعبیر کرتے ہیں۔

اِسی دوران، مبصرین اِس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کے سرکردہ رکن ممالک وسیع تر مفاہمت، سیاسی مکالمے اور حقیقت پسندانہ اندازِ فکر کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں، تاکہ بنگلہ دیش کو حالیہ بحران سے نکالا جاسکے۔