انتخابات منصفانہ اور نتائج درست ہیں: شیخ حسینہ

امریکی محکمہٴخارجہ نے کہا ہے کہ اِن انتخابات سے ’مایوسی‘ ہوئی ہے، اور نتائج سے یہ نہیں لگتا کہ عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہوتی ہے
بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ اُن کا دوبارہ انتخاب درست ہے، حالانکہ حزب ِاختلاف کی اہم پارٹی نے رائے شماری کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور ووٹنگ میں ہنگامہ آرائی کے واقعات ہوئے ہیں اور انتخابی عمل میں شرکت کم رہی ہے۔

انتخابی اہل کاروں نے پیر کے روز بتایا ہے کہ حکمراں عوامی لیگ پارٹی نے اتوار کو ہونے والی ووٹنگ میں 300 پارلیمانی نشستوں میں سے تین چوتھائی سے زائد سیٹیں جیت لی ہیں۔

حزب اختلاف کی ’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی‘ کے انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ، بقول اُن کے، یہ ’مضحکہ انگیز‘ الیکشن ہیں، جس میں ملک کے آدھے سے زیادہ حلقوں میں عوامی لیگ کے امیدوار بنا مقابلے کامیاب ہوئے ہیں۔

مز حسینہ نے اپنی جماعت کی کامیابی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس شکایت کی کوئی جائز وجہ نہیں۔

اُن کے بقول، ’میں نہیں سمجھتی کہ اِن انتخابات کے بارے میں کسی شکایت کی کوئی گنجائش ہے۔ لوگوں نے اپنے طور پر استصواب میں حصہ لیا اور اُنہی کے ووٹوں کی وجہ سے ہم منتخب ہوئے ہیں۔ اور خدا نے چاہا تو ہم حکومت تشکیل دیں گے اور ملک کی راہنمائی کے فرائض انجام دیں گے‘۔

اتوار کے روز ہونے والی ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں کم ازکم 18 افراد ہلاک ہوئے اور تین مزید لوگ پیر کو ہونے والے جھگڑوں کے دوران موت کا شکار ہوئے۔

انتخابی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 40 فی صد تھا، حالانکہ مشاہدہ کرنے والے چند گروپوں نے استصواب کے عمل کو اس سے کہیں کم بتایا ہے۔ 2008ء میں ہونے والے گذشتہ انتخابات میں ووٹ دینے والوں کی شرح 80 فی صد سے زیادہ تھی۔

بین الاقوامی مبصرین نے انتخابات کے جائزے کے لیے اپنے مبصرین روانہ کرنے سے انکار کیا تھا۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے کہا ہے کہ اِن انتخابات سے ’مایوسی‘ ہوئی ہے، اور نتائج سے یہ نہیں لگتا کہ عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ اُنھیں افسوس ہے کہ شرکاٴ کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں پُرامن اور سب کی شرکت والے انتخابات کا انعقاد ہوتا۔

حزبِ اختلاف کی اہم جماعت نے، جس کی سربراہی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کرتی ہیں، مطالبہ کیا ہے کہ شیخ حسینہ دست بردار ہوں اور اقتدار ایک عبوری حکومت کے حوالے کریں، جو انتخابات کی نگرانی کرے۔

وزیر اعظم حسینہ نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس روایتی انداز کے باعث سیاسی بے چینی ہی جنم لیتی ہے۔


گذشتہ دو عشروں سے دونوں خواتین بنگلہ دیش کے سیاسی افق پر چھائی رہی ہیں۔

ووٹنگ پر احتجاج کے لیے، اپوزیشن نے ملک بھر میں دو روزہ ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔