کشمیر کی متنازعہ سرحد پر سمجھوتے کے باوجود فائرنگ

فائل فوٹو

متنازعہ کشمیر کی سرحد پر تعینات بھارت-پاکستان افواج کے درمیان اتوار کو پھر جھڑپ ہوئی۔ بھارتی عہدیداروں نے بتایا کہ پاکستانی فائرنگ میں اس کے دو سپاہی ہلاک اور سات شہری زخمی ہوگئے۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرمائی صدر مقام جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بھارت کے سرحدی حفاظتی دستے بارڈر سیکیورٹی فورس یا بی ایس ایف کے انسپکٹر جنرل رام اوتار نے الزام لگایا کہ پاکستان رینجرز نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو بین الاقوامی سرحد یا ورکنگ باؤنڈری کے پرگوال اور کانہا چک علاقوں میں بی ایس ایف کی اگلی چوکیوں اور شہری علاقوں کو ان کے بقول بِلا اشتعال اور اندھا دھند فائرنگ کرکے ہدف بنایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فائرنگ میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت بی ایس ایف کے دو سپاہی ہلاک ہوگئے- پولیس کا کہنا ہے کہ کئی شہری بھی فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوئے ہیں ۔

آئی جی رام اوتارنے یہ بھی کہا کہ یہ فائر بندی کی خلاف ورزی تھی نہ کہ چھپ کر گولی چلانے کا واقعہ اور یہ کہ بی ایس ایف نے اس کا مضبوط اور مؤثر جواب دیدیا ہے۔

پاکستان کی طرف سے بھارتی الزام پرتا حال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارتی فائرنگ سے 22 پاکستانی شہری زخمی ہوئے ہیں ۔

ماضی میں پیش آئے اس طرح کے ہر واقعے کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

صرف چھہ دن پہلے دونوں ملکوں کے ڈائرکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان ہاٹ لائن پر ہوئی بات چیت کے بعد طرفین کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ان کے درمیان نومبر 2003 میں طے پائے فائر بندی کے سمجھوتے پر اب مکمل طور پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

دونوں کے درمیان یہ بات چیت پاکستان کی درخواست پر ہوئی تھی۔ اس سے پہلے متنازعہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائین اور ورکنگ باؤنڈری پر جو بھارت میں انٹرنیشنل بارڈر یا بین الاقوامی سرحد کہلاتی ہے، دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان مسلسل نو دن تک جھڑپیں ہوئی تھیں اور اس دوران دونوں طرف جانی اور مالی نقصان ہوا تھا۔

ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہوئی بات چیت کے بعد دونوں ملکوں کے فوجی حکام کی طرف سے کئے گئے اس اعلان کا کہ تقریبا" پندرہ برس پہلے طے پائے فائر بندی کے سمجھوتے پر اب مکمل عمل ہو گا جہاں دونوں ملکوں میں عوامی سطح پر خیر مقدم کیا گیا تھا وہیں امریکہ اور چین نے اسے خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ جنوبی ایشیاء کے یہ دو ہمسایہ ملک آپسی معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

نیز مقابل افواج کے درمیان ہوئی خونزیر جھڑپوں کے بیچ سرحدی علاقوں میں رہنے والے جو ہزاروں کنبے محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے تھے وہ اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تھے۔

سرحد پر پیش آئے فائرنگ کے تازہ واقعے کو قابل افسوس قرار دیتے ہوئے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا، "سرحد پر فائر بندی کی جو خلاف ورزی ہوئی ہے جس میں بی ایس ایف کے دو جوان شہید ہوئے ہیں اور ہمارے کئی شہری زخمی بھی ہوئے ہیں یہ ایک قابل افسوس واقعہ ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ڈی جی ایم اوز کی بات چیت کے باوجود ایسا ہوا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا- "سرحد کی دونوں جانب لوگ مر رہے اور زخمی ہو رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کو ایک مرتبہ پھر بات کرنی چاہئیے تاکہ خون خرابے کا یہ سلسلہ بند ہو۔"