چین میں ایک بچہ فی خاندان پالیسی میں نرمی کا عندیہ
Prezident Obama Hindistanın baş naziri Narendra Mudi ilə görüşür - Dehli, 26 yanvar, 2015
چین میں ایک بچہ فی خاندان پالیسی 1970ء کی دہائی کے اواخر میں متعارف کروائی گئی تھی۔
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اگر میاں بیوی میں سے کوئی بھی ایک اپنے والدین کی واحد اولاد ہو تو اُن کا اپنا خاندان دو بچوں پر مشتمل ہو سکتا ہے۔
مجوزہ پالیسی کے مطابق اب ہر شادی شدہ جوڑا دو بچے پیدا کرسکتے ہیں۔
سی ڈی آر ایف نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ 2015ء تک یہ پالیسی ختم کر کے دو بچے پالیسی کا اعلان کریں کیونکہ چین میں معمر آبادی بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے جس کو متوازن کرنے کے لیے ایک بچہ پالیسی کا خاتمہ ضروری ہو گیا ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق ملک کی آبادی میں توازن کے لیے ایک گھر ایک بچہ پالیسی میں مرحلہ وار تبدیلی لائی جائے گی۔
چین میں ایک خاتون اپنی بیٹی کو جھولا جھولاتے ہوئے۔
چین آبادی کے لحاط سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔
حکام نے خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق پالیسی میں مزید نرمی کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔
چین میں ایک ہی بچہ پالیسی کا مقصد آبادی بڑھنے کی رفتار میں آنے والی تیزی کو روکنا تھا۔