کرونا وائرس کے باعث عبادت کے طریقے بھی تبدیل
امریکہ میں بھی گرجا گھر خالی رہے تاہم کچھ گرجا گھروں میں اکا دکا افراد ہی عبادت کی غرض سے پہنچ سکے۔
کرونا وائرس سامنے آنے کے بعد گرجا گھروں میں جانے سے پہلے سینیٹائزر کا استعمال لازمی ہے۔ چرچ کی جانب ایک شخص مرکزی دروازے پر دور سے ہی کھڑا نظر آ جاتا ہے جو سینیٹائزر فراہم کرتا ہے۔
امریکہ میں میری لینڈ کے علاقے میں لوگ گاڑیوں میں بیٹھے بیٹھے ہی پادری سے دعائیں کراتے ہیں۔
جنوبی افریقی شہر جوہانسبرگ کے گرجا گھروں میں بھی داخلے سے قبل ہاتھوں کو دھونا ضروری ہے۔ مرد ہوں یا خواتین سب کا سینٹائزر استعمال کرنا لازمی ہے۔
سینیگال کے ایک گرجا گھر میں اتوار کو ہونے والی دعائیہ سروس بھی منسوخ کر دی گئی۔ لوگوں نے گھرجا گھر جانا عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
برازیل کے گرجا گھر میں اتوار کو ہونے والی ماس سروس ٹیلی ویژن سے براہ راست نشر کی گئی۔ اس موقع پر گرجا گھر میں عبادت گزاروں کی تصاویر کرسیوں پر رکھی ہوئی تھیں۔
سیرالیون کے تمام گرجا گھروں میں مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔ ایسے میں چرچ کے پادری کو مقامی ریڈیو اسٹیشن پر آکر خطبہ دینا پڑا۔
افریقی ملک گھانا کے گرجا گھر بھی ویران رہے۔ کچھ چرچز میں ایک دو عبادت گزار آئے جب کہ اس موقع پر ہونے والی دعائیہ تقریب کو لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے ملک بھر میں ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔
انڈونیشیا کے جزیرے مشرقی جاوا کے ایک گرجا گھر میں پابندی کے سبب ایک بھی عبادت گزار نہیں پہنچ سکا۔ چرچ کی تمام نشستیں خالی رہیں۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک چرچ کی تمام نشستیں خالی نظر آ رہی ہیں جب کہ ایک ہی شخص گرجا گھر عبادت کے لیے آیا۔