پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی کوششیں
پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے تفتان میں پاکستان آنے والے زائرین کے لیے قرنطینہ قائم کیا گیا ہے جہاں اُنہیں کچھ عرصے قیام کرنا لازمی ہے۔ اس دوران زائرین کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔
قرنطینہ میں مقیم افراد کے لیے کھانا بلوچستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔
تمام مزارات اور درگاہوں کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ان میں لاہور میں واقع صوفی بزرگ داتا گنج بخش کا مزار بھی شامل ہے۔
داتا گنج بخش کا مزار بند ہونے کے باوجود عقیدت مند باہر جمع ہو جاتے ہیں جہاں وہ دعائیں اور منتیں مانتے ہیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے دوسرے شہروں کو سفر کرنے والے بیشتر افراد دورانِ سفر چہرے پر ماسک پہنتے ہیں۔ ماسک پہننا وائرس سے بچنے کے لیے اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر میں شامل ہے۔
کراچی سے بذریعہ ٹرین سفر کرنے والے مسافروں کا سفر سے پہلے ریلوے اسٹیشن پر ہی جسم کا درجہ حرارت چیک کیا جا رہا ہے۔
ٹرینوں اور بسوں میں سفر کرنے کے علاوہ موٹر سائیکلز اور کاروں میں سفر کرنے والے افراد بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر ماسک استعمال کر رہے ہیں۔
کرونا کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں سنیما ہالز بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
لاہور کا چڑیا گھر بھی کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی تدابیر کے طور پر بند کیا گیا ہے جہاں پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔
دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں نے بھی بغیر ماسک لگائے ڈیوٹی دینا ترک کیا ہوا ہے۔