ایک رات سانس اکھڑی تو لگا وقت آ گیا ہے، اپنے دوست کو ویڈیو کال کی اور اشاروں سے خدا حافظ کہا، اسپتال میں ارد گرد جاننے والوں کو بھی کرونا کے سبب مرتے دیکھتا تو آس ٹوٹ جاتی تھی، لندن کے ایک اسپتال سے لوگوں کو کرونا کو سنجیدگی سے لینے کا پیغام دینے والے مبشر احمد کی صحت یاب ہونے کے بعد وائس آف امریکہ کےاسد حسن کے ساتھ گفتگو۔
'زندگی ختم ہو رہی تھی، دل و دماغ میں صرف بیٹیاں تھیں'
Your browser doesn’t support HTML5
ایک رات سانس اکھڑی تو لگا کہ آخری وقت آ گیا ہے۔ ایک دوست کو ویڈیو کال کی اور اشاروں سے خدا حافظ کہا۔ اسپتال میں آس پاس لوگوں کو کرونا وائرس سے مرتے دیکھتا تو آس ٹوٹ جاتی تھی۔ لندن میں کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مبشر احمد کی وائس آف امریکہ کے اسد حسن سے گفتگو۔