کرونا وائرس ٹیسٹ کس طرح ہوتا ہے؟
میڈیکل پیڈ کے ذریعے طبی ماہرین متاثرہ شخص کے منہ کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان پیڈز پر متاثرہ شخص کا تھوک اکٹھا ہو جاتا ہے جسے بعد میں لیبارٹری میں لے جاکر مزید جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ اسے مختلف کیمیکلز کی مدد سے کئی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔
متاثرہ شخص کے منہ سے لیے گئے لعاب کو حفاظت کے ساتھ رکھ کر لیبارٹری منتقل کیا جاتا ہے۔
جرمنی میں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے باعث ماہرین نے سڑک سے گزرنے والے تمام افراد کا ٹیسٹ کیا۔
جرمنی میں شاہراہوں سے گزرنے والے افراد سے حاصل نمونے مختلف کنٹینرز میں محفوظ کیے گئے اور بعد میں ان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اسپین میں پلوں سے گزرنے والے مسافروں کو روک کر ان کے ٹیسٹ کیے گئے۔ یورپ میں اٹلی کے بعد اسپین سب سے زیادہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والا دوسرا ملک ہے۔
جرمنی میں باقاعدہ کرونا وائرس ٹیسٹ ڈرائیو کا اہتمام کیا گیا یعنی سڑکوں سے گزرنے والی گاڑیوں میں موجود تمام افراد کو باری باری ٹیسٹ کیا گیا۔
افریقی ملک کانگو میں وزارت صحت کے حکام نے کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے بھی جمع کیے۔
ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں عام متاثرین کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز کا بھی احتیاط کے طور پر ٹیسٹ ہوا۔
دنیا بھر میں وبا کے ٹیسٹ جاری ہیں تاہم اس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔