مصر: صدر مرسی نے وسیع تر اختیارات حاصل کرلیے

مصر کے صدر محمد مرسی

صدارتی حکم نامے میں عدلیہ کو ایوان بالا اور نیا آئین مرتب کرنے والی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے اختیار پر بھی قدغن لگائی گئی ہے۔
مصر کے صدر محمد مرسی نے خود کو احتساب سے بالا اور اپنی حمایت کرنے والے قانون سازوں کو تحفظ فراہم کر کے ایک نیا قضیہ چھیڑ دیا ہے۔

جمعرات کو صدر مرسی کی طرف سے جاری کردہ فرمان کے مطابق ’’انقلاب کے تحفظ‘‘ کی ضرورت کے پیش نظر ان کے احکامات کو عدالت یا اور کسی ادارے میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

ان کے ترجمان کی طرف سے اعلان کردہ صدارتی حکم نامے میں عدلیہ کو ایوان بالا اور نیا آئین مرتب کرنے والی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے اختیار پر بھی قدغن لگائی گئی ہے۔ مقننہ میں صدر مرسی کے حامی مذہبی قانون سازوں کو اکثریت حاصل ہے۔

مزید برآں انھوں نے گزشتہ سال طویل مدت تک صدر رہنے والے حسنی مبارک کے خلاف تحریک کو دبانے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے سابقہ حکام کے خلاف مقدمات دوبارہ شروع کرنے کا بھی حکم دیا۔

صدر مرسی کے حامیوں نے یہ کہہ کر اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے کہ اسے بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن حزب مخالف اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے کر اس کے خلاف جمعہ کو احتجاج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

مصر کے صدر کا یہ فیصلہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ان کی کوششوں پر بین الاقوامی سطح پر انھیں ملنے والی پذیرائی کے بعد سامنے آیا ہے۔

نوبل انعام یافتہ محمد البرادئی کا کہنا ہے کہ مسٹر مرسی نے ریاست پر اپنی گرفت مضبوط کر لی اور ان کے بقول اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ البرادئی آزاد خیال حزب مخالف کے رہنما ہیں اور وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔