دیوار برلن کو گرے 30 سال مکمل
یہ تصویر 2 جون 1990 کی ہے۔ مشرقی جرمنی کا فوجی ایک شخص کو دیوار برلن پر ضرب لگاتے دیکھ رہا ہے۔
12 نومبر 1989 کو لی گئی ایک تصویر جس میں مشرقی جرمنی کے زیر استعمال رہنے والا ایک بلڈوزر اور کرین برلن وال کو مسمار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
جرمنی کے تاریخی مقام 'برانڈنبرگ گیٹ' پر مشرقی جرمنی سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہتھوڑے سے دیوار مسمار کر رہا ہے۔
مشرقی جرمنی کی سرحد پر واقع برانڈنبرگ گیٹ پر لوگ دیوار برلن پر چڑھے ہوئے ہیں۔ دیوار کے انہدام کے لیے مشرقی جرمنی کے باسی اکثر احتجاج کرتے تھے۔ جس کے نتیجے میں انقلاب آیا۔ 9 نومبر کو دیوار برلن مسمار ہوئی اور اس کے اگلے سال جرمن اتحاد وجود میں آیا۔
مشرقی جرمنی میں رہنے والے انگنت افراد نے دیوار برلن گرنے کے تیسرے دن یعنی 12 نومبر 1989کو سرحد عبور کی اور مغربی جرمنی میں داخل ہوگئے۔
یہ بھی دیوار برلن کے زمانے کی ایک یادگار تصویر ہے جس میں مغربی جرمنی کے شہری بڑی تعداد میں برانڈنبرگ گیٹ کے سامنے جمع ہیں۔ یہ تصویر 10 نومبر 1989 کو لی گئی تھی۔
ہرسال جب بھی دیوار برلن کے انہدام کی سالگرہ آتی ہے برانڈنبرگ گیٹ پر خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ جرمنی بھر سے لوگ یہاں آتے اور واقعے کی یاد میں شمعیں روشن کرتے ہیں جبکہ یاد گار کے طور پر باقی رہ جانے والی دیوار کے ایک حصہ پر پھول رکھتے ہیں۔
رواں برس بھی برلن میں واقع برانڈنبرگ گیٹ پر لوگوں نے مل کر جشن منایا۔ آتش بازی کے ساتھ ساتھ مختلف رنگ کی روشنیوں سے گیٹ کو منور کیا گیا۔
تقریب کے دوران موسیقی کی محفل منعقد ہوئی جس میں مختلف فنکاروں نے پرفارم کیا اور سریلے نغمے گائے۔
تقریب کے دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے یادگاری دیوار پر مختلف رنگوں کے گلاب رکھے اور اپنے دلی جذبات کا مظاہرہ کیا۔
دیواربرلن کا تین کلومیٹر طویل حصہ یادگار کے طور پر آج بھی موجود ہے اور ہرسال جب بھی دیوار برلن کے انہدام کی سالگرہ آتی ہے لوگ یہاں شمعیں روشن کرنا اور پھول رکھنا کبھی نہیں بھولتے۔
دیوار برلن کے انہدام کے 30 سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب کی سب سے خاص بات آتش بازی رہی۔
برنڈنبرگ گیٹ پر ہونے والی آتش بازی کے مناظر دور دور سے دیکھے جا سکتے تھے۔
تقریب میں مختلف فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے بھی شرکت کی اور اپنے فن سے تقریب کو چار چاند لگائے۔
فنکاروں کی پرفارمنس کے دوران بھی مختلف رنگوں کی روشنیوں نے محفل کا سماع باندھے رکھا۔
گزشتہ ہفتے ہونے والی تقریب میں جرمنی کے صدر فرینگ والٹر، ان کی اہلیہ ایلکا بروڈن بینڈر، جرمن چانسلر انگیلا مرکل اور ان کے شوہر جواشیم سوار بھی شریک ہوئے۔
مشرقی و مغربی جرمنی کے درمیان واقع سابق سرحد پر دو افراد کھڑے ہیں۔ یہ دیوار برلن کا وہ حصہ ہے جسے یادگار کے طور پر باقی رکھا گیا ہے۔
دیوار برلن کی 30 سالہ تقریب کے موقع پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
مشرقی و مغربی جرمنی کی سرحد پر موجود واچ ٹاور جو اب زیر استعمال نہیں لیکن گزرے دنوں کی ایک یاد گار ہے۔
جرمن چانسلر انگیلا مرکل بھی واقعے کی یاد میں شمعیں روشن کرنے والوں میں پیش پیش تھیں۔
دیوار برلن پر لوگوں کی جانب سے مختلف قسم اور رنگوں کے پھول رکھے جاتے ہیں۔
ہفتے کو 30 سالہ تقریبات کے موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے یادگاری دیوار پر پھول رکھے اور شمعیں روشن کیں۔