بغداد میں امریکہ مخالف مظاہرے

جمعے کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ امریکی فوج عراق سے نکل جائے۔

مظاہروں کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے بغداد کے گرین زون کی جانب جانے والے راستے بند کر دیے تھے۔

ہزاروں مظاہرین جمعے کو بغداد کے الحریہ کے علاقے میں جمع ہوئے۔ بغداد کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی مظاہرین یہاں پہنچے۔

عراقی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ملک میں جاری مسائل کے خلاف دارالحکومت بغداد کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی وقتاً فوقتاً احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جو اکثر و بیشتر امریکہ مخالف احتجاج میں بدل جاتے ہیں۔

جمعے کو بغداد میں ہونے والے مظاہرے میں شریک افراد کی اکثریت نے عراقی پرچم تھام رکھے تھے۔ اُنہوں نے امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

بغداد کے التحریر اسکوائر میں بھی مظاہرین نے کئی روز سے دھرنا دے رکھا ہے۔

مظاہرین بے روزگاری، کرپشن اور طرزِ حکمرانی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ مظاہروں کے دوران جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔

مظاہرین کو گلہ ہے کہ سالہا سال سے عراق میں جاری لڑائی سے عراقی عوام معاشی بدحالی کا شکار ہو رہے ہیں جب کہ امریکہ اور غیر ملکی قوتیں عراق کے عوام کا استحصال کر رہی ہیں۔

رواں ماہ امریکی ڈرون حملے میں ایران کی فوج پاسدرانِ انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے عراق میں ہونے والے اس احتجاج میں شدت آئی ہے۔