تصاویر: کابل میں خودکُش حملہ

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع ایک افغان خبر رساں ادارے کے دفتر اور اس سے متصل ایک ثقافتی مرکز پر خود کش حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق مرکز کے اندر اور باہر کم از کم تین دھماکے ہوئے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ دھماکے کے وقت ثقافتی مرکز میں طلبہ کا ایک وفد ریسرچرز کے ساتھ پینل ڈسکشن میں مصروف تھا۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے دھماکے میں اب تک 40 افراد کے ہلاک اور 30 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ترجمان کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

کابل کا مغربی علاقہ شیعہ اکثریتی ہے جب کہ اطلاعات ہیں کہ حملے کا نشانہ بننے والا ثقافتی مرکز اور اس سے متصل نیوز ایجنسی بھی اہلِ تشیع افراد کی ہے۔

'افغان وائس' میں کام کرنے والے ایک صحافی سید عباس حسینی نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز'کو بتایا ہے کہ کمپاؤنڈ کے داخلی دروازے پر ہونے والے دھماکے کے بعد بھی انہوں نے کئی دھماکوں کی آوازیں سنیں۔

دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے۔ اس سے قبل بھی داعش افغانستان میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی کئی کارروائیوں اور حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔

افغانستان میں ذرائع ابلاغ پر حملوں میں حالیہ چند ماہ کے دوران اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ماہ بھی شدت پسندوں نے کابل میں ایک نجی ٹی وی اسٹیشن پر حملہ کیا تھا۔

صحافیوں کی آزادی اور تحفظ کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے 'رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز' نے رواں ماہ اپنی رپورٹ میں افغانستان کو صحافیوں کے لیے دنیا کے سب سے خطرناک ملکوں میں سے ایک قرار دیا تھا جہاں 2017ء کے دوران دو صحافی اور پانچ میڈیا کارکن اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے۔