یوکرین: ملائیشیا کا مسافر طیارہ گر کر تباہ

دونسک کے علاقے میں بوئنگ 777 کا ملبہ

طیارے میں 280 مسافر اور عملے کے 15 ارکان سوار تھے جن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکا ہے۔

’ملائیشین ایئرلائنز‘ کا ایک مسافر طیارہ ایمسٹرڈم سے کوالہ لمپور پرواز کرتے ہوئے مشرقی یوکرین کے دونسک کے علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا، جو خطہ یوکرین کی حکومتی افواج اور روس نواز علیحدگی پسندوں کی شدید لڑائی کا میدان بنا ہوا ہے۔

یوکرین کی وزارت داخلہ کے ایک اہل کار، اینتون گریشنکو نے کہا ہے کہ طیارہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا نشانہ بنا۔

طیارہ، بوئنگ 777پر 280 مسافر اور عملے کے 15 ارکان سوار تھے۔

یوکرینی صدر پیترو پوروشنکو نے کہا ہے کہ اُنھوں نے نیدرلینڈز کے وزیر اعظم کے ساتھ تعزیت کی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ واقع ’کوئی حادثہ، یا قدرتی آفت نہیں، بلکہ دہشت گردی کا ایک عمل تھا‘۔

جمعرات کے روز ڈیلاویئر میں ایک اخباری کانفرنس کے آغاز پر امریکی صدر براک اوباما نے مختصراً جہاز گرنے کا ذکر کیا۔

بقول اُن کے، ’اِس وقت ہم یہ بات طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں آیا پرواز میں کوئی امریکی شہری تو نہیں تھا۔ یہی ہماری اولین ترجیح ہے‘۔

اُنھوں نے امریکہ کی طرف سے اعانت کی پیش کش کی، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ طیارہ کیسے گرا۔

بقول اُن کے، ’اس حوالے سے، امریکہ ضروری اعانت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ اس بات کا تعین ہو کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔ بحیثیتِ ملک، ہماری ہمدردی اور دعائیں اہل خانہ اور مسافروں کے ساتھ ہیں‘۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق، اِس سے قبل، جمعرات ہی کے دِٕن، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پہلے سے طے ٹیلی فون کال پر مسٹر اوباما سے گفتگو کرتے ہوئے روس یوکرین سرحد کے قریب مسافر طیارے کے گرنے کی ابتدائی رپورٹوں کا ذکر کیا۔


امریکی محکمہٴخارجہ نے ابلاغ عامہ کی اِن رپورٹوں کی تصدیق نہیں کی کہ مسافر طیارے میں 23 امریکی شہری سوار تھے۔

خاتون ترجمان، جین ساکی نے واقع کے بارے میں کوئی اضافی اطلاع نہیں دی۔

روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اخباری کانفرنس میں، اُنھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ، ہمیں نہیں معلوم کہ اس کی کیا وجوہات تھیں یا جہاز کے گرنے کا ذمہ دار کون ہے۔


یوکرین کی وزارت داخلہ کے اہل کار، گریشنکو نے فیس بک پر لکھا ہے کہ اس طیارے کو، بقول اُن کے، دہشت گردوں نے ’بوک‘ طیارہ شکن نظام کو استعمال کرتے ہوئے گرایا۔ یہ لفظ یوکرین کے حکام علیحدگی پسندوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

بوک طیارہ شکن نظام 1970ء کی دہائی کے اواخر میں سابق سوویت یونین نے تیار کیا تھا جس سے 22000میٹر اونچائی (72000 فٹ) تک مار کرنے کے لیے فائر کیا جاتا ہے۔

علیحدگی پسندوں نے مسافر جہاز گرانے کی رپورٹ کی تردید کی ہے۔ اُن کے ایک لیڈر، الگزینڈر بورودائی نے ملائیشیا کے مسافر جہاز کو گرانے کا الزام یوکرین کی فضائی افواج پر دیا ہے۔ یوکرین کی حکومت نے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ اُس کی مسلح افواج اس میں ملوث تھیں۔

اِس سے قبل کی اطلاعات کے مطابق، ​’ملائیشین ایئرلائنز‘ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ جمعرات کو ایمسٹرڈم سے کوالہ لمپور جانے والے طیارے کے ساتھ، اس کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ طیارے میں 280 مسافر اور عملے کے 15 ارکان سوار تھے۔

روس کے ’انٹرفیکس‘ خبر رساں ادارے نے ’شہری ہوابازی سے منسلک ایک ذریعے‘ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جہاز مشرقی یوکرین کے قصبے، ’شِنزنے‘ کے قریب گر کر تباہ ہوا، جو روس کے ساتھ ملنے والی سرحد پر واقع ہے، جو یوکرینی حکومت کی افواج اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان شدید لڑائی کا میدان بنا ہوا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ واقع کی رپورٹوں کے بارے میں امریکی حکام یوکرینی عہدے داروں سے رابطے میں رہے ہیں. تاہم، تفصیل فراہم کرنے سے احتراز کیا۔

مسافر طیارہ تباہ ہونے کی رپورٹوں پر، امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ’یوں لگتا ہے کہ یہ ایک بھیانک المیہ ہے۔‘ ساتھ ہی، صدر اوباما نے کہا کہ اُنھوں نے اپنی قومی سلامتی کی کمیٹی کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ یوکرین کی حکومت سے قریبی رابطے میں رہے۔

اِس سے قبل، اِسی ہفتے کے اوائل میں ایک جہاز گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ابھی یہ واضح نہیں آیا طیارے پر کس نے حملہ کیا تھا؛ باغیوں نے اِس کا الزام یوکرین کی فضائی افواج پر لگایا تھا۔

ایسے میں جب جمعرات کو طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی ابتدائی رپورٹیں موصول ہو رہی تھیں، علیحدگی پسندوں نے دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے ’توریز‘ نامی قصبے کے قریب یوکرین کا ایک فوجی مال بردار جہاز (اے این 26) مار گرایا ہے، جو ’شِنزنے ‘ سے 10 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔ پیر کو، یوکرینی فوج کا ایک جہاز (اے این 26) مشرقی یوکرین کے لہانسک علاقے میں مار گرایا گیا تھا۔

بدھ کے روز روس نواز علیحدگی پسندوں نے مشرقی یوکرین پر پرواز کرنے والے یوکرینی ایس یو 25 ساخت کے طیارے کو میزائل کا نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس جہاز کا پائلٹ بحفاظت زمین پر اتر گیا۔

بدھ ہی کے روز، یوکرین کی فوج نے بتایا کہ روسی جنگی جہازوں سے داغا گیا ایک میزائل یوکرین کے ایس یو 25 جہاز کو جا لگا، جو اُس وقت مشرقی یوکرین پر پرواز کر رہا تھا۔ تاہم، پائلٹ ’ایجکٹ‘ کرنے میں کامیاب ہوا۔