سمندری پلاسٹک آلودگی کا بڑا ذریعہ دنیا کے 10 بڑے دریا

فائل

دنیا کے سمندروں میں ہر منٹ کے بعد کوڑے کرکٹ کے ایک ٹرک کے برابر پلاسٹک کا فضلہ داخل ہو رہا ہے اور ہر سال یہ مقدار 80 لاکھ ٹن کے برابر بنتی ہے۔

ایک نئی مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سمندر میں داخل ہونے والی اس آلودگی کا ذریعہ صر ف 10 بڑے دریا ہیں۔

اس معاملے کی تحقیق کرنے والے تحقیق کار کرسچیئن شمٹ جن کا تعلق جرمنی کے ماحولاتی ریسرچ کے ادارے ہیلمولٹز سے ہے، نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ " ایسا نظر آتا ہے کہ بڑے دریا یہ پلاسٹک منتقل کرتے ہیں اور یہ وہ دریا ہیں جہاں زیادہ آبادی ہے۔ آپ ان دریاؤں پر توجہ دے کر اس پلاسٹک کی مقدار کو کم کر سکتے ہیں۔"

ان میں سے دو دریا نیل اور نائیجر افریقہ میں ہیں جب کی باقی آٹھ ایشیا میں ہیں جن میں گنگا، سندھ ، دریائے زرد ، یانگزے، ہائے ہی، پرل، میکانگ اور آمور شامل ہیں۔

تحقیق کاروں نے اس مطالعاتی رپورٹ کا جائزہ لیا جو دریاؤں کی آلودگی سے متعلق ہے اور اس کا مقابلہ انہوں نے اس فضلے سے کیا جو دریاؤں کے آس پاس کے علاقوں میں مناسب طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جاتا ہے۔

شمٹ نے مزید کہا کہ "حقیقت میں یہ بہت آسان ہے، آپ کو خاص طور پر ان ترقی پذیر ملکوں میں فضلے کو ٹھکانے لگانے کے نظام کو بہتر کرنا ہو گا جہاں اقتصادی ترقی تیزی سے ہو رہی ہے۔ یہ دنیا بھر میں مسئلہ ہے صرف ترقی پذیر ملکوں تک محدود نہیں ہے۔ "

سمندروں میں پلاسٹک کی آلودگی کے ماحولیاتی اثرات کا انداز لگانا اتنا آسان نہیں ہے تاہم سائنسدان اس بارے میں واضح ہیں کہ یہ سمندری حیات کو متاثر کر رہا ہے۔ بلجیئم میں واقع یونیورسٹی کو گینٹ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق انسانوں کو ہر سال سمندری خوراک میں 11ہزار تک پلاسٹک کے ٹکڑے کھانا پڑتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق صرف 5 فیصد پلاسٹک کو موثر طریقے سے ری سائیکل کیا جاتا ہے ۔ دنیا بھر میں 2015 ء کے دوران32 کروڑ 20لاکھ ٹن پلاسٹک بنایا گیا اور 2050ء تک اس مقدار میں چار گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔

شمٹ اور ان کے ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی تحقیقاتی رپورٹ اس آلودگی کو صاف کرنے کی طرف توجہ مبذول کروانے میں معاون ہو گی۔