بچوں کی شرح اموات میں کمی کے لیے’ بقا کی دوڑ‘
رواں ہفتے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو درپیش مسائل پر توجہ مبذول کروانے کے لیے دنیا کے 66 ممالک میں 50 ہزار بچوں نے عالمی میراتھن دوڑ میں حصہ لیا۔
’’بقا کی دوڑ‘‘ کے نام سے ہونے والی یہ بین الاقوامی دوڑ اسلام آباد میں بھی منعقد ہوئی۔
اس دوڑ میں مختلف شہروں سے آئے ہوئے 240 بچوں نے شرکت کی۔
Police officers stand vigilant outside the U.S. embassy in London as the Senate Intelligence Committee prepares to release a report on the CIA's anti-terrorism tactics, Dec. 9, 2014.
سیوو دی چلڈرن کے مطابق پاکستان میں ہر برس پانچ سال سے کم عمر تین لاکھ 52 ہزار بچے مختلف قابل علاج بیماروں کا شکار کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت لیڈی ہیلتھ ورکرز اور معمول کی ویکسینیشن دینے والے رضا کاروں کی ہر بچے تک پہنچ کو یقینی بنائے۔
پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔
سیوو دی چلڈرن کے ڈائریکٹر ایڈووکیسی ارشد محمود کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک ہزار میں سے 87 بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں زچہ و بچہ کی بنیادی صحت سے متلعق آگاہی پیدا کرکے بچوں کی شرح اموات میں کمی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔