’آن لائن تعلیم‘ پاکستانی لڑکیوں کے لیے خواب و خیال کیوں؟

پاکستان میں پرائمری سکولوں کی تعداد 1 لاکھ 63 ہزار ہے، مگر لڑکیوں کے پرائمری سکولوں کی تعداد محض 40 ہزار کے لگ بھگ ہے

ٹیکنالوجی نے ہماری دنیا کو بدل دیا ہے۔ نئے دور کے ساتھ کلاس روم کا تصور بھی بدل رہا ہے۔ ایک زمانے میں تعلیم کے لیے سکول کو اہم سمجھا جاتا تھا اور بچے کتابیں اور بستے لیے صبح صبح سکول جاتے تھے۔ مگر اب سبھی کچھ کمپیوٹر تک محدود ہو گیا ہے۔

دور ِجدید کی اس ضرورت کو مد ِنظر رکھتے ہوئے امریکہ میں ایک ’آن لائن سکول فار گرلز‘ کھولا گیا ہے۔ اس سکول میں لڑکیوں کے لیے مختلف مضامین میں تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔


بہت سی لڑکیاں ان کلاسز میں دلچسپی لیتی دکھائی دے رہی ہیں۔ جیسا کہ ملبورو سکول کی شوچتل گرین جو مستقبل میں نفسیات دان بننا چاہتی ہیں اور اس شعبے میں آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے سکول میں سائیکولوجی کی صرف ایک کلاس مہیا کی جاتی ہے، جو ان کے بقول، ان کی ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔

بریڈ ریتھگیبر، ’آن لائن سکول فار گرلز‘ کے ایکزیکیٹیو ڈائریکٹر ہیں اور کہتے ہیں کہ، ’اِن آن لائن کلاسز کا مقصد یہ ہے کہ ہم لڑکیوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کریں جہاں پر وہ پورے اعتماد کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں‘۔

مگر شاید ایسا سکول اور ایسی تعلیم ابھی پاکستان کے لیے محض ایک خواب و خیال ہی ہے۔ پاکستان کے وفاقی تعلیم کے ادارے کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں تعلیم کی صورتحال خراب دکھائی دیتی ہے اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم ملک کا ایک اہم مسئلہ ہے۔

پاکستان میں لڑکیوں کی شرح ِ خواندگی 26 فی صد ہے اور اس میں وہ بچیاں اور خواتین بھی شامل ہیں جو صرف اپنے دستخط کرنا جانتی ہیں اور اخبار پڑھ سکتی ہیں۔ پاکستان میں پرائمری سکولوں کی تعداد 1 لاکھ 63 ہزار ہے مگر لڑکیوں کے پرائمری سکولوں کی تعداد محض 40 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے اور جدید دور کے جدید تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اگر پاکستان بھی ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ تعلیم کی طرف توجہ دیئے بغیر ترقی کا خواب محض ایک خواب ہی رہے گا۔