کرونا کے دور میں سنگاپور میں انتخابات
سنگاپور کی صدر حلیمہ یعقوب نے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اس موقع پر اُنہوں نے ماسک اور دستانے پہن رکھے تھے۔
ووٹرز کے لیے دستانے پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ دستانوں اور ماسک کے بغیر کسی کو بھی پولنگ اسٹیشن کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس مرتبہ بھی حکمراں جماعت 'پیپلز ایکشن پارٹی' با آسانی انتخابات جیت جائے گی۔
سنگاپور میں 26 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ کرونا وبا کے باوجود وزیر اعظم لی سیان لونگ نے ملک میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔
انتخابی عملے کو کرونا سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر عمل کی ہدایت کی گئی تھی۔ سنگا پور میں کرونا کے 45 ہزار سے زائد کیس جب کہ 26 اموات ہو چکی ہیں۔
کرونا سے بچاؤ کے لیے ووٹرز کے لیے بھی ہدایت نامہ جاری کیا گیا تھا۔ قطار بنانے کے دوران بھی سماجی دُوری اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
دنیا کے بڑے معاشی مرکز سنگاپور کو بھی کرونا وبا سے معاشی بحران کا سامنا ہے۔ حکومت نے 72 ارب ڈالر کے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں صرف چھ نشستیں حاصل کی تھیں۔
ووٹنگ کے دوران انتخابی عمل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ پولنگ بوتھس اور وہاں رکھی گئی اشیا کو سینیٹائز کرتے رہیں۔
معذور افراد نے بھی ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز کا رُخ کیا۔ انہیں ویل چیئر کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔