دنیا کی پہلی نجی اسپیس فلائٹ کی روانگی موخر

اسپیس ایکس کے راکٹ کریو ڈریگن کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن روانہ ہونا تھا لیکن حکام نے روانگی سے 17 منٹ قبل اسے موخر کرنے کا اعلان کر دیا۔
 

ناسا کا کہنا ہے اب یہ راکٹ ہفتے کی سہہ پہر 3 بج کر 22 منٹ پر روانہ ہو گا۔ تاہم کسی مسئلے کی صورت میں اسے دوسری مرتبہ بھی موخر کیا جاسکتا ہے۔ اور ایسی صورتِ حال میں یہ راکٹ اتوار کو روانہ ہو سکے گا۔
 

اسپیس ایکس کیپسول میں اچانک پیش آنے والے مسئلے کی صورت میں از خود الگ ہوجانے کی سہولت موجود ہے جس کے سبب خلاباز محفوظ طریقے سے پرواز جاری رکھ سکتے ہیں۔
 

اسپیس ایکس کی روانگی کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر مائیک پینس، خاتون اول میلانیا ٹرمپ بھی کیپ کورل فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں موجود تھے۔
 

ناسا کا کہنا ہے کہ نئے مشن سے فالکن نائن راکٹ، ڈریگن اسپیس کرافٹ اور زمینی نظام کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوں گی۔ اس کے علاوہ مدار اور خلائی اسٹیشن پر لینڈنگ کے بارے میں ضروری معلومات بھی ملیں گی۔
 

 ناسا کے اس مشن میں نجی کمپنیاں بھی شامل ہیں اور یہ ایک اعتبار سے خلا میں انسانوں کی آمدورفت کی آزمائش کا آخری مرحلہ ہوگا۔
 

گزشتہ نو سال میں یہ پہلا خلائی مشن ہے جو امریکہ کی سرزمین سے خلا بازوں کو لے کر زمین کے مدار میں جائے گا۔ ناسا' کے مطابق مشن کے لیے اس کے دو سابق شٹل پائلٹ رابرٹ بینکن اور ڈگلس ہرلی کا انتخاب کیا گیا ہے۔


 

ناسا حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ خلائی پرواز کی کامیابی سے امریکی عوام کا حوصلہ بحال کرنے میں مدد ملے گی جو صحتِ عامہ کے بحران میں گھرے ہوئے ہیں۔