افغان حکومت طالبان کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے: امریکہ

امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن اور چیئرمین چوائنٹس چیف جنرل مارک ملے افغانستان کی صورتِ حال پر مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔

امریکہ کی دفاعی قیادت نے امید ظاہر کی ہے کہ افغان حکومت طالبان کے حالیہ حملوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے جب کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا منصوبے کے تحت جاری ہے جس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں۔

امریکہ کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور جوائنٹ چیفس چیئرمین جنرل مارک ملے نے جمعرات کو پینٹاگون میں مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران افغانستان کی تازہ ترین صورتِ حال پر بات چیت کی۔

جنرل مارک ملے نے کہا کہ افغان فورسز لڑائی کی قیادت کر رہی ہیں اور وہ ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ مقامی فورسز لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور ہم انہیں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

جنرل مارک ملے کے بقول، "بطور پیشہ ور فوجی میرا خیال ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ طالبان جیت جائیں گے اور کابل حکومت ختم ہو جائے گی۔"

یاد رہے کہ یکم مئی کو امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے عمل کے شروع ہوتے ہوئے طالبان کے حملوں اور افغان فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے۔

اس سلسلے میں افغانستان کے مختلف صوبوں کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ تواتر سے ہونے والے طالبان کے حملوں میں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ بعض صوبوں میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے بھی افغان فوج کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول "ہم نے افغان صوبے ہلمند کے شہر لشکر گاہ میں افغان فورسز کی جوابی کارروائی کو دیکھا ہے جو بہت شاندار طریقے سے کی گئی تھی۔"

SEE ALSO: افغانستان سے نکل رہے ہیں، تعلق نہیں توڑ رہے: امریکی وزیرخارجہ

انہوں نے کہا کہ ہم پُر امید ہیں کہ افغان سیکیورٹی فورسز طالبان کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے اہم کردار ادا کریں گی۔

جنرل مارک ملے کا کہنا تھا کہ افغان ایئر فورسز کی لاجسٹک سپورٹ کو برقرار رکھنا ایک اہم امتحان ہے اور ہمیں اس معاملے کو حل کرنا ہے۔ ان کے بقول ہماری کوشش ہے کہ افغان ایئر فورس کو مکمل سپورٹ فراہم کریں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد بعض کنٹریکٹر واپس افغانستان جا سکتے ہیں۔

امریکی حکام اور بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکی و اتحادی افواج سمیت ہزاروں کنٹریکٹرز کے افغانستان سے انخلا کا عمل افغان سیکیورٹی فورسز کو امتحان میں ڈال دے گا۔

یاد رہے کہ افغانستان میں امریکہ کے 2500 اور مغربی ملکوں کے اتحاد نیٹو کے لگ بھگ 7000 فوجی موجود ہیں اور ہزاروں کنٹریکٹر الگ سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

افغان صوبے قندھار کے حکام نے جمعرات کو بتایا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے دہلا ڈیم پر قبضہ کر لیا ہے اور لڑائی کے خدشے کے پیشِ نظر وہاں آباد سیکڑوں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اسی طرح طالبان نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بغلان صوبے کے اہم ضلع پر قبضے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

امریکی فوج کے عہدیداروں نے ان دعوؤں کی تردید کی کہ طالبان کے حالیہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول طالبان کی جانب سے افغان سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں اور شدت کی تعداد وہی ہے جو ماضی میں تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ طالبان کی جانب سے افغان فورسز پر یومیہ 80 سے 120 حملے کیے جاتے تھے۔

دوسری جانب افغان وزارتِ دفاع نے جمعرات کو ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغان ایئر فورسز کی جانب سے طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

افغان وزارتِ دفاع کے مطابق فضائی حملہ ہلمند صوبے کے شہر لشگر گاہ میں کیا گیا جس میں طالبان کے تین سینئر ارکان سے آٹھ جنگجو مارے گئے ہیں۔

افغان وزارتِ دفاع کے نائب ترجمان فواد امان نے بدھ کو وائس آف امریکہ کی افغان سروس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان نیشنل سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس فورسز اے این ایس ڈی ایف آزادانہ طور پر فوجی آپریشن کر رہی ہے اور میدانِ جنگ میں اسے غیر ملکی فوجیوں کی مدد حاصل نہیں۔

ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل مارک کمت نے وی او اے کی افغان سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند روز میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اس لیے افغان سیکیورٹی فورسز کو اتحادی اور نیٹو فورسز کی جگہ لینا ہو گی۔