امریکیوں کی اکثریت پوپ کے لیے مثبت رائے رکھتی ہے: جائزہ رپورٹ

یہ سروے ’کیونی پیک یونیورسٹی‘ نے جاری کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیتھولک عقیدے سے تعلق رکھنے والے 87 فی صد افراد نے اور کسی مذہب کو نہ ماننے والوں کے 63 فی صد نے پوپ کے بارے میں ’بہت ہی مثبت‘ یا ’مثبت‘ رائے کا اظہار کیا ہے

کیتھولک کلیسا کے روحانی پیشوا کے پہلے دورہٴامریکہ سے قبل ہونے والے رائے عامہ کے ایک نئے جائزے سے پتا چلتا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت پوپ فرینسس کے بارے میں ’مثبت‘ رائے رکھتی ہے۔

یہ سروے ’کیونی پیک یونیورسٹی‘ نے جاری کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیتھولک عقیدے سے تعلق رکھنے والے 87 فی صد افراد نے اور کسی مذہب کو نہ ماننے والوں کے 63 فی صد نے پوپ کے بارے میں ’بہت ہی مثبت‘ یا ’مثبت‘ رائے کا اظہار کیا ہے۔ علاوہ ازیں، سروے میں شامل 69 فی صد خواتین اور 63 فی صد مرد حضرات نے پوپ فرینسس کے لیے اچھے کلمات ادا کیے ہیں۔


جائزہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 43 فی صد امریکی اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ آج کلیسا درست سمت گامزن ہے، جب کہ 21 فی صد کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

کیتھولک مذہب کے ماننے والوں کا 70 فی صد کُھل کر کلیسا کے درست سمت اختیار کرنے کی رائے سے متفق ہے، جب کہ 36 فی صد پروٹیسٹنٹ اور کسی مذہب پر ایمان نہ رکھنے والے44 فی صد اس تاثر کی تائید کرتے ہیں۔

ٹِم میلوئے، ’کیونی پیک یونیورسٹی پول‘ کے نائب سربراہ ہیں۔ بقول اُن کے، ’پوپ فرینسس کیتھولک چرچ میں اعتماد بحال کرنے کے سلسلے کی ایک مؤثر کرن ہیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’مزید کیتھولکس، پروٹسٹنٹ اور وہ جو کسی بھی مذہب کے ماننے والے نہیں ہیں، اس بات کے قائل ہیں کہ چرچ صحیح سمت کی طرف آگے بڑھ رہی ہے‘۔

پوپ فرینسس کے چھ روزہ دورہٴ امریکہ کے دوران، جِس کا آغاز 22 ستمبر کو ہوگا، وائٹ ہاؤس میں اُن کی اور امریکی صدر براک اوباما کی ملاقات ہوگی، وہ کانگریس کی مشترکہ نشست اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جب جہ وہ فلاڈیلفیا میں ویٹیکن کی سرپرستی میں منعقدہ عالمی اجلاس سے خطاب کریں گے۔